تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 316
تاریخ احمدیت۔جلد 26 316 سال 1970ء تحریک پاکستان جب اپنے انتہائی اہم دور سے گزر رہی تھی خصوصاً جون ۱۹۴۷ء میں قائد اعظم نے مسلم اخبار والوں کی ایک پریس کانفرنس بلائی جن میں اخبار نویسوں کو کانگریس کے زیر تلے پرا پیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور اس کا پوری طرح جواب دینے کے لئے انتہائی قیمتی ہدایات دیں۔اس وقت بیگم شفیع کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فرمایا اپنے خیالات کا اظہار اور کوشش کرتی رہئے جب تک کامیابی نہیں ہوتی ، قیام پاکستان کے بعد بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان آئیں۔ابھی اخبار دوبارہ جاری کر کے اسے محکم کرنے کی جد و جہد ہورہی تھی کہ مدد مدد کی ایک اور صدا بلند ہوئی اور یہ صدا تھی مغویہ عورتوں کی۔وہ مسلمان رضا کار سوشل خواتین کا وفد لے کر مشرقی پنجاب کے اندرونی حصوں میں مسلمان لڑکیوں کی بازیابی کے لئے گئیں تو جو روح فرسا اور المناک داستانیں انہوں نے سنیں ان کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم کو بتایا، بازیابی کے ساتھ ساتھ مہاجر خواتین کے حقوق کی حفاظت کی اور کل پاکستان انجمن مهاجر خواتین قائم کی، جس کی صدر وہ مقرر ہوئیں۔۱۹۵۰ء میں مسلم صحافیوں کے وفد کے ہمراہ بھارت گئیں۔صحافی وفد کی پاکستان واپسی پر وفد کے لیڈر پر بعض باتوں کے لئے تنقید کی جس کی بنا پر انہیں نیوز پیپرز ایڈیٹرز کا نفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے نکال دیا گیا۔۱۹۵۱ء سے ان کی زیادہ تر کوشش اور تمنا رہی کہ اخبار کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی چلی جائیں۔بیگم شفیع احمد کی کوششیں آخر کار شمر لے آئیں اور عورتوں کو ملازمتوں میں لیا جانے لگا۔۱۹۶۷ء میں دستکاری لاہور سے اسلام آباد لے آئیں اور اسلام آباد دارالحکومت سے پہلا نکلنے والا پر چہ انہی کا تھا۔وہ ایک زبر دست مذہبی خاتون تھیں۔جون ۱۹۴۷ء میں قائد اعظم نے دہلی میں مسلمان ایڈیٹروں سے خطاب کیا وہ برقع میں تھیں“۔آپ کی وفات پر پاکستان کے وقیع اور با اثر پریس نے آپ کی سماجی اور صحافتی خدمات کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔اخبارات کے طویل شذرات اور مضامین کے نمونۂ صرف چند جلی عنوانات ملاحظہ ہوں:۔ا۔تحریک نسواں کی صف اول کی بے باک خاتون صحافی بیگم شفیع احمد۔55 ۲۔وہ زندگی بھر تحریک نسواں کی علمبردارر ہیں ان کی تحریروں نے دوسروں کو تازہ عزم دیا۔56 "A fearless journalist who fought for women's rights" 57-