تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 315
تاریخ احمدیت۔جلد 26 315 سال 1970ء ۱/۸ اپریل ۱۹۵۰ء کو دہلی میں مشہور لیاقت نہر و معاہدہ ہوا۔معاہدہ کی تفصیلات طے کرنے کے لئے وزیر اعظم پاکستان ۱/۲ پریل کو دہلی تشریف لے گئے۔اس موقع پر مسلم اخبار نویسوں کا جو وفد پاکستان سے دہلی گیا آپ بھی اس کی مبر تھیں۔۱۹۶۶ء میں کامن ویلتھ پریس کانفرنس پاکستان میں منعقد ہوئی جس کی صدارت محمد ایوب خاں صدر پاکستان نے کی۔اس کانفرنس کے مندوبین میں آپ بھی شامل تھیں۔آپ پنجاب مسلم لیگ شعبہ خواتین کی نائب صدر اور مغربی پاکستان کونسل اور پنجاب ریڈ کراس ایسوسی ایشن کی مجلس قائمہ (Standing Committee) کی رکن تھیں۔پاکستان میں حقوق نسواں کی کوئی ابتدائی تاریخ آپ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں قرار پا سکتی۔پاکستان کے نامور محقق وادیب جناب زاہد حسین انجم انسائیکلو پیڈیا قائد اعظم میں شفیع احمد د بیگم کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں:۔د شفیع احمد بیگم: ہفت روزہ اخبار دستکاری (دہلی) کی مدیرہ، ان کے شوہر ڈاکٹر سید شفیع احمد دہلوی ایک عرصہ تک مولانا ظفر علی خان اور عبدالمجید سالک مرحوم کے ہمعصر اور خواجہ حسن نظامی کے ساتھی رہے۔۱۹۴۱ء میں اپنے شوہر کے انتقال پر دستکاری کی ادارت سنبھالی۔قائد اعظم جیسے عظیم رہنما کی قیادت میں اس وقت دہلی میں مسلم لیگ کی بڑی سرگرمیاں جاری تھیں اور بیگم شفیع احمد نے بھی اپنے اخبار کی تمام سرگرمیاں مسلم لیگ اور تحریک پاکستان سے وابستہ کر دیں۔چنانچہ ہمیشہ دستکاری اخبار کا دفتر اوپر کی منزل اور آل انڈیا مسلم لیگ کا دفتر مچلی منزل میں رہا۔وہ زنانہ مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کی رکن بھی تھیں اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کی حفاظت کا سوال بھی اٹھاتی رہیں۔قومی سطح پر بیگم شاہنواز، بیگم شائستہ اکرام اللہ مسلم لیگ کی طرف سے مسز پنڈت اور مسز سروجنی نائیڈو کانگریس کی طرف سے عورتوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔۱۹۴۶ء میں جب سراسٹینفورڈ کرپس نے ہندوستان کا دورہ کیا اور شملہ کا نفرنس بلائی تو بیگم شفیع نے عورتوں کی سیاسی نمائندگی کا سوال اٹھایا اور سراسٹیفورڈ کرپس سے کئی سوالات کئے جن کا جواب سرکر پس نے اپنے ہاتھ سے تحریری طور پر ان کے دلائل اور جذبے سے متاثر ہو کر دیا۔ان کے سوالات و جوابات کی پوری رپورٹ ڈان میں شائع ہوئی تھی جو اس زمانے میں دہلی سے نکلتا تھا۔