تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 304
تاریخ احمدیت۔جلد 26 304 سال 1970ء کا خصوصی موقف تھا۔حتی المقدور بچوں اور اہل کو سنت پر عمل کرنے کی ترغیب ہر وقت جاری رکھتے۔موصی تھے۔۱/۸ کی وصیت کی ہوئی تھی۔ہر تحریک میں حصہ لیتے تنگی و فراخی میں کبھی بھی مالی قربانی کے فریضہ سے غفلت نہیں کی۔36- میاں محمد اسماعیل صاحب وفات: ۲۳ مارچ ۱۹۷۰ء محترم میاں محمد اسماعیل مورخه ۲۳ مارچ ۱۹۷۰ء کو بعمر ۸۰ سال وفات پاگئے۔آپ موضع دھرگ میانہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ کا شمار گاؤں کے اولین احمدیوں میں سے تھا۔آپ گاؤں کے پڑھے لکھے اور معزز گھرانے کے فرد تھے۔آپ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب بھٹی آف فتوکے کی دعوت پر ۱۹۳۴ء کے جلسہ سالانہ پر قادیان تشریف لے گئے اور وہاں ۲۹ دسمبر ۱۹۳۴ء کو حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔آغوش احمدیت میں آنے کے بعد آپ کو ایک ہی لگن تھی یعنی تبلیغ اسلام۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی مساعی کو نوازتے ہوئے بیشتر مقامات پر جماعتیں قائم فرمائیں اور متعدد افراد نے قبول احمدیت کی توفیق پائی۔آپ کے استقلال اور استقامت کو دیکھ کر گھر کے دیگر افراد بھی شجر احمدیت سے لا تعلق نہ رہ سکے۔اواخر عمر میں گاؤں کے احمدی بچوں کو قرآن کریم ناظرہ اور باترجمہ پڑھانے کی توفیق ملی۔آپ جب نماز با جماعت کی غرض سے گھر سے نکلتے تو گھر سے مسجد تک تمام احباب اور بچوں کوفردا فردا پکارتے جاتے کہ آؤ نماز کے لئے چلیں۔آپ کو طب یونانی میں بھی خاصی دلچسپی تھی۔اس لئے اپنے گاؤں اور گردونواح میں بحیثیت طبیب خاصے مقبول تھے۔اس طرح آپ کو تبلیغ کا موقع بھی فراہم ہو جاتا۔مرحوم ایک متقی دعا گو صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔آپ بہت ملنسار متواضع اور منکسر المزاج بزرگ تھے۔آپ تادم زیست جماعت احمد یہ دھرگ میانہ کے سیکرٹری مال اور امام الصلوۃ رہے۔سرور محمد بشیر صاحب (امریکہ) وفات: ۹راپریل۱۹۷۰ء سرور محمد بشیر صاحب امریکہ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ۱۹۷۰ء میں ربوہ تشریف لائے اور ۹ راپریل ۱۹۷۰ء کو دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔آپ کی نماز جنازہ قاضی