تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 280
تاریخ احمدیت۔جلد 26 280 سال 1970ء نیاز محمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔محترمہ عالم بی بی صاحبہ کے نھیال اور ددھیال کے بزرگ مہاراجہ کشمیر کے مظالم سے تنگ آکر پنجاب آگئے تھے اور تلونڈی راہ والی ضلع گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کی۔انہوں نے تلونڈی میں ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی۔حضرت محترمہ عالم بی بی صاحبہ نے حضرت اماں جان اور حضرت ام ناصر صاحبہ اور حضرت امتہ اکئی صاحبہ کی زیر نگرانی قرآن شریف کا ترجمہ سیکھا اور ان سے دینی تعلیم حاصل کی۔آپ کو قادیان کے محلہ دار البرکات میں لجنہ کی صدر رہنے کی توفیق ملی۔آپ نے ۱/۵ کی وصیت کی ہوئی تھی۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں عمل میں آئی۔اولاد مرحومہ نے اپنے پسماندگان میں چار بیٹے بریگیڈیئر ڈاکٹر غلام احمد صاحب، مکرم حافظ بشیر احمد صاحب، مکرم منیر احمد صاحب اور مکرم خلیل احمد صاحب اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔آپ کی ایک بیٹی سیده فرخندہ اختر شاہ صاحبہ (پرنسپل نصرت جہاں کالج ) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کی اہلیہ تھیں۔حضرت مولوی سیف اللہ صاحب چندر کے منگولے ضلع سیالکوٹ ولادت: قریباً ۱۸۷۰ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۷ اجون ۱۹۷۰ء دعوت الی اللہ، عبادت، شب بیداری، غرباء کی ہمدردی اور عوام الناس کی خیر خواہی آپ کے خاص اوصاف تھے۔چالیس سال کی عمر میں چوہدری اللہ دتہ صاحب مرحوم کے پاس جن کا کنواں گاؤں سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔روزانہ جا کر قرآن مجید با تر جمہ پڑھا اور پھر ساری عمر نہایت شوق و محبت سے درس دیتے رہے۔قیام بالعموم خدا کے گھر میں ہی رکھتے۔عبادت ان کی غذا تھی۔رات نفل پڑھتے گزارتے جب نیند غلبہ کرتی سو جاتے پھر اُٹھ کر نماز میں کھڑے ہو جاتے۔دین کے لئے بہت غیرت رکھتے تھے جب بھی کسی نے ظلم کیا مظلوم کی مدد کرتے۔گو ظالم مولوی صاحب مرحوم کا بھی دشمن ہو جاتا۔لیکن آپ کا تو کل اللہ تعالیٰ پر تھا۔بالآخر ظالم نامراد رہتا تھا۔تعلق باللہ اتنا تھا کہ بعض دفعہ آئندہ حالات کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ آپ کو اطلاع دے دیتا۔ایک دفعہ دو احمدی دوست یونین کونسل کے دو حلقوں میں کھڑے ہوئے۔مولوی صاحب مرحوم سے کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کی گئی۔دعا کے بعد فرمانے لگے انشاء اللہ دونوں کامیاب ہو جاویں گے۔مگر ایک ممبر کامیاب ہوا اور دوسرا نا کام ہو گیا۔مولوی صاحب مرحوم پریشان ہو کر کہنے لگے۔کوئی دھو کہ ہوا ہے۔