تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 245 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 245

تاریخ احمدیت۔جلد 26 245 سال 1970ء سیٹ بیک ہوا جو قو می اسمبلی کی صرف چار نشستیں اور کل ووٹوں کا ۵۶۹۷ فیصد حاصل کرسکی جبکہ پی پی پی نے کفر کے فتووں کے باوجود قومی اسمبلی کی ۸۱ نشستیں اور ۳۸۶۸۹ فیصد ووٹ حاصل کئے۔170 انتخابات میں عبرتناک شکست جناب مودودی صاحب کی ”جماعت اسلامی“ کو اپنی تمام تر کوششوں اور حربوں کے غیر اسلامی، غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود ایسی عبرتناک شکست ہوئی کہ اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ( انتخابی نتائج الیکشن ۱۹۷۰ء۔قومی اسمبلی میں نمائندوں کی کل تعداد ۳۱۳۔کل نشستیں جن کے لئے انتخاب ہوا ۲۹۰۔کامیاب امیدوار۔عوامی لیگ ۱۵۱۔پیپلز پارٹی ۸۱۔جماعت اسلامی ۴۔مسلم لیگ قیوم گروپ ۹۔کونسل مسلم لیگے۔جمعیۃ العلماء پاکستان ے۔آزاد ۱۶۔جمعیۃ العلماء اسلام ہزاروی گروپ کے۔نیشنل عوامی پارٹی ولی گروپ ۶۔کنوینشن مسلم لیگ ۲۔جمہوری پارٹی ۱۔مرکزی جمعیتہ علماء اسلام ×۔جماعت اسلامی کے کامیاب ۴ نمائندوں میں سے دو کا تعلق سندھ سے تھا اور باقی دو پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھتے تھے )۔180 مودودی صاحب پاکستان میں صرف اس لئے آئے تھے کہ وہ اپنی پارٹی کی سلطنت قائم کر سکیں۔اسی نصب العین کے لئے انکی ساری جدو جہد ہے۔۵۳ ء کے فسادات پنجاب میں انہوں نے جو کر دار ادا کیا تھا اس کا مقصد بھی یہی تھا اسی لئے انہوں نے اُن دنوں نہایت اشتعال انگیز کتا بچہ قادیانی مسئلہ شائع کیا تھا۔مودودی صاحب کے جواب میں جماعت احمدیہ کی طرف سے’ قادیانی مسئلہ کا جواب“ شائع ہوا تھا جس میں مودودی صاحب کی خطر ناک سکیم کو طشت از بام کرتے ہوئے حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ اسیح الثانی نے نہایت واضح الفاظ میں اعلان فرما دیا تھا کہ خواہ کچھ ہو جائے مودودی صاحب کی پارٹی اپنے اس مقصد میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکے گی۔حضور کے الفاظ یہ ہیں : مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقینا نہیں بنے گی۔جماعت اسلامی کی شکست پر شورش کا شمیری کا تبصرہ 181 ”جماعت اسلامی کے نقیب خصوصی شورش کا شمیری ایڈیٹر چٹان نے جناب مودودی صاحب کے نام ایک کھلے مکتوب میں لکھا:۔مخدومی مولانا، سلام مسنون۔نتائج کے بعد دماغ میں سوالات کا ایک ہجوم ہے ابھی خود انہیں