تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلد 26 14 سال 1970ء نے عرصہ ملازمت میں قبل تقسیم اور بعد تقسیم ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری بنگلے، دفاتر اور دیگر ند درہائشی اور صنعتی عمارات اپنی نگرانی میں بنوائی ہیں۔سپاسنامے کے بعد حضور نے ایک بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔در علم و جہالت کی اس دنیا میں صرف تعصب کی بناء پر ہی اسلام پر اعتراض نہیں کئے جاتے بلکہ رائج الوقت علوم کی بناء پر بھی اعتراض کئے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسلام کو کسی بھی مروجہ علم سے کوئی اندیشہ اور خطرہ نہیں۔یہ علوم ہیں ہی اس لئے کہ اسلام ان سے خادموں کے طور پر کام لے۔جب مروّجہ علوم کی اصل حیثیت خادم اسلام کی ہے اور اسلام نے ان سے خادموں کے طور پر کام لینا ہے تو پھر اسلام کے اِن خادموں کو جاننا، انہیں پر کھنا اور ان سے کام لینے کے اسلوب معلوم کرنا ضروری ہے۔یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک کہ ایک عمدہ لائبریری نہ ہو۔اس سے ایک جامع اور مکمل لائبریری کی ضرورت واضح ہے۔لیکن اس ضمن میں یہ یادرکھنا ضروری ہے کہ لائبریری کسی عمارت کا نام نہیں ہے جس میں مختلف علوم وفنون کی کتابیں رکھی گئی ہوں لائبریری نام ہے اُس عمارت کا جس میں کتابیں بھی ہوں اور ساتھ ہی اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی غرض سے تحقیق کرنے والے دل اور دماغ بھی ہوں۔پھر وہ تحقیق ہی کرنے والے نہ ہوں بلکہ ساتھ ہی یہ دعا بھی کرنے والے ہوں جو ہمیں سکھائی گئی ہے یعنی یہ کہ رَبِّ أَرِنِی حَقَائِقَ الأَشْيَاءِ (اے میرے رب! مجھے اشیاء کے حقائق دکھلا ) اور پھر وہ یہ دعا اس درد اور تڑپ کے ساتھ کرنے والے ہوں کہ اس دعا کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے قبول فرمائے۔اس طرح وہ اپنی تحقیق اور اپنی عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام کا نام بلند کرنے والے ہوں۔پس احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس کوشش کو اس رنگ میں قبول فرمائے کہ یہ لائبریری دنیا میں حقائق الاشیاء کو پھیلانے کا موجب ہو اور اس سے استفادہ کرنے والے دنیا کے دلوں اور دماغوں کو جیتنے والے ہوں تا دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو اور ہر طرف اسلام غالب آتا چلا جائے۔“