تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 220
تاریخ احمدیت۔جلد 26 220 سال 1970ء دعائیں کرتی تھی اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا تھا اور اس سے پیار کرتا تھا۔ی تھی مسلمان عورت۔دو تین دن کی بیاہتا ہے۔میدان جنگ میں شادی ہوتی ہے خاوند جنگ میں مصروف ہے اور پھر شہید ہو جاتا ہے دنیا کہہ سکتی ہے کہ اس نے دنیا میں اپنی امنگوں کو پورا ہوتے نہیں دیکھا مگر اس نے تو یہ نہیں کہا۔اس نے تو یہ کہا کہ میں نے اپنے بہشت کو پا لیا۔میرا خاوند خدا کے قول کے مطابق ابدی حیات کی آغوش میں چلا گیا اور میں اس کے پیچھے پیچھے جاؤں گی۔خاوند بھی خدا اور رسول کی محبت میں مست اور بیوی بھی خدا کی محبت میں مست اور عشق رسول کی آگ میں جل رہی تھی یہ تھی اس زمانے کی مسلمان عورت جس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا ایسے ہی تو نہیں اللہ تعالیٰ اپنی محبت دیتا کہ جو مرضی کرتے رہو اور پھر بھی تمہیں اس کی محبت حاصل ہو۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان جس طرح مردوں پر تھا اسی طرح عورتوں پر بھی تھا اور جس طرح مردوں نے اس حقیقت کو پہچانا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) کہ اگر اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم ضروری ہے۔اسی طرح اس وقت کی عورت نے بھی یہی سمجھا کہ خدا تعالیٰ کا پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ انہوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کیا اور آپ کے اسوہ کو اپنایا اور قرآن کریم کے حکم کے مطابق آپ نے جن چیزوں سے روکا ان سے وہ رکیں اور جن چیزوں کے لینے کی تاکید کی انہیں لے لیا اور پھر انہیں اتنی مضبوطی سے پکڑا کہ دنیا کی ساری سیمپٹیشن (Temptation) یعنی دنیا کی طرف جو میلان تھا وہ سب کچھ جل کر خاک ہو گیا۔وہ خدا کی بندیاں بن گئیں وہ آپس میں پیار کرنے والیاں اور راتوں کو اپنے رب کے ذکر میں مشغول رہنے والیاں تھیں۔ان کی زبان بھی پاک تھی۔ان کی زبان پر کوئی لڑائی جھگڑا یا گالی گلوچ نہیں تھی۔ان کی نگاہیں بھی پاک تھیں، ان کے جسم بھی پاک تھے، ان کے دل بھی پاک اور مطہر تھے۔اس تظہیر کے نتیجہ میں اس پاکیزگی کی وجہ