تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 211
تاریخ احمدیت۔جلد 26 211 سال 1970ء اسلام اور قرآن کے ذریعہ نفس کے جو حقوق مقرر کئے ہیں ہر فرد واحد کو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔اصولی طور پر ہر نفس کا جو حق مقرر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ رب کریم نے انسان کو جو قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں ان کی نشو ونما کو کمال تک پہنچایا جائے یعنی اپنے دائرہ استعداد میں کامل و مکمل عبد بن جائے۔ان حقوق میں سے فی الوقت میں صرف ایک حق کا ذکر کروں گا اور وہ یہ کہ آپ کا یہ حق ہے کہ آپ بچے اور پکے اور حقیقی خادم بن جائیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ خادم بنے کی قوت کو کمال تک پہنچائیں اور اس امر کا پورا خیال رکھیں کہ جذبہ خدمت کی نشو ونما ادھوری نہ رہ جائے۔حسب استعداد یہ جذبہ جہاں تک ترقی کر سکتا ہو اس حد تک اسے پہنچانا چاہیے ورنہ نفس پر ظلم ہوگا۔جہاں تک اس جذبہ کے نشو وارتقاء کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں بارہ ایسے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے جن سے ایک سچے اور حقیقی خادم کو متصف ہونا چاہیے۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زندگی کے ایک دور میں حکومت کے بعض افسران اور کارندوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔آپ نے اُس وقت اس امر کا جائزہ لیا کہ ان افسران میں ایک اچھے خادم کے اوصاف پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ حضور علیہ السلام یہ دیکھ کر کہ افسر الا ماشاء اللہ ایک اچھے خادم کے اوصاف سے عاری ہیں فرمایا:۔میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ، حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پر ہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ارشاد میں جذبہ خدمت کی نشو و نما کے لئے بارہ ایسے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے جن سے ایک بچے اور حقیقی خادم کا متصف ہونا ضروری ہے۔وہ اوصاف جیسا کہ حضور علیہ السلام کے اس ارشاد سے واضح ہے یہ 144- یہ