تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 201 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد 26 201 سال 1970ء کرنے کے لئے اللہ میاں ہمیں دیتا ہی نہیں ، یعنی ہمیں ایک دھیلا بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں ملتا لیکن ہماری ضرورت کو پورا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔ڈاکٹر سعید صاحب جنہوں نے پانچ اور چھ ہزار کے درمیان سالانہ آمد پیدا کی ہے ان کو ہم نے یہاں سے جاتے وقت دوائیاں وغیرہ خریدنے کے لئے صرف پانچ سو پونڈ دیا تھا اور انہوں نے سارے اخراجات نکالنے کے بعد دوسالوں میں پانچ چھ ہزار پونڈ Save کر لیا اور یہ معین اس لئے نہیں کہ میرے دورے کے وقت پانچ ہزار سے رقم بڑھ چکی تھی لیکن وہ کہتے تھے کہ ابھی آخری Balance Sheet نہیں بنی اس لئے میں صحیح طور پر نہیں کہہ سکتا، اغلباً چھ ہزار پونڈ سے زیادہ ہے اور یہ بڑی رقم ہے۔دنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں ہو سکتا ہے کسی ملک میں ہمیں اپنے مشن چلانے کے لئے روپے کی ضرورت ہو، مگر ہم باہر سے نہ بھجواسکیں تو اس صورت میں اگر ہمارے یہ سنٹر ز ہونگے تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہوگی یہی میڈیکل سنٹرز رقم مہیا کریں گے۔کانو میں ہمارے کلینک نے پندرہ ہزار پونڈ سے زیادہ بچایا ہوا تھا جسے اسی کلینک پر خرچ کر کے ایک بہت اچھی خوبصورت بلڈنگ بنادی گئی ہے۔ایبٹ آباد میں اس کی تصویر پڑی ہوئی ہے آپ دیکھتے تو بہت خوش ہوتے اور ابھی ایک چوتھائی کام رہتا ہے۔چند دن ہوئے مجھے خط آیا ہے کہ اس حصے پر بھی لنٹل پڑ گئے ہیں اور اب وہ اچھا بڑا ہسپتال بن گیا ہے۔یہاں بہت سے ڈینٹسٹ نے وقف کیا تھا لیکن وہاں اس وقت تک Demand نہیں تھی اب وہاں سے اطلاع آئی ہے کہ اگر کوئی ڈینٹسٹ آئیں گے تو وہ بھی اچھا کام کرسکیں گے لیکن جو چیز بڑی ضروری ہے وہ اخلاص ہے اور عادت دعا ہے اس کے بغیر تو ہمارا ڈاکٹر وہاں کام نہیں کر سکتا۔اگر ڈاکٹر میں اخلاص نہیں ہوگا تو وہ ہمارے لئے پرابلم بن جائے گا اگر وہ دعا گو نہیں ہو گا تو وہ اپنے مریض کے لئے پرابلم بن جائے گا۔