تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 183
تاریخ احمدیت۔جلد 26 183 سال 1970ء راہنمائی اور حتی الوسع مدد کرنے کی بھی چند مثالیں بیان فرمائیں۔۹ استمبر۔حضور اسلام آباد میں تشریف فرما ر ہے۔ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب حضور کی تحریک وقف پر لبیک کہتے ہوئے طبی خدمات بجالانے کے لئے جلد مغربی افریقہ جانے والے تھے۔آج ان کے صاحبزادہ سید تنویر مجتبی صاحب اور سیدہ خالدہ بنت میجر سید مقبول احمد صاحب نائب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی کی شادی تھی۔تقریب رخصتانہ میجر صاحب کی کوٹھی بیت السلام پر عمل میں آئی جس میں حضور نے بھی شمولیت فرمائی نیز اس موقع پر ان کے چھوٹے صاحبزادے لیفٹیننٹ سید تو قیر مجتبی کے نکاح کا اعلان فرمایا جو سیدہ نزہت سیدین بنت سید غلام السیدین راولپنڈی کے ساتھ قرار پایا تھا حضور نے اپنے مختصر خطبہ نکاح میں یہ اہم نکتہ بیان فرمایا کہ میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات سے نہ صرف خاندان بلکه مجموعی طور پر معاشرہ پر بھی خوشکن اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لئے اپنے ازدواجی تعلقات کو انتہائی خوشگوار بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور نے فرمایا اب ہم آج کے دلہا دلہن کے لئے بھی اور کل کے دلہا دلہن کے لئے بھی دعا کر لیتے ہیں چنانچہ حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی اور پھر اسلام آباد تشریف لائے اور احباب کو اپنے روح پرور کلمات سے مستفید و محظوظ فرمایا اور چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمد یہ راولپنڈی کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر مسجد نور کافی نہیں۔کسی وسیع جگہ پر مسجد تعمیر کرائیں۔انہوں نے عرض کیا کہ ایک پلاٹ حاصل کیا جا چکا ہے۔فرمایا دراصل شاندار عمارت بنانے کا تصور روک بنا ہوا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے۔آپ نے ابتدائی ایام میں مدینہ میں جب مسجد نبوی کی بنیا درکھی تو اسے کھجور کے تنے اور پتوں سے کھڑا کیا تھا بعد میں آہستہ آہستہ اس میں اضافے اور تزئین بھی ہوتی رہی۔آج ہم تاریخ کے جس دور سے گزر رہے ہیں ہمیں بھی سر دست کھجوروں کے پتوں کی چھت ڈال کر مساجد بنا لینی چاہئیں پھر اللہ تعالیٰ جب توفیق دے تو ان کی زیبائش و آرائش میں دل کھول کر خرچ کیا جاسکتا ہے۔مساجد تو دراصل عبادت اور ذکر الہی کے لئے بنائی جاتی ہیں اور ایسی جگہ پر ہونی چاہئیں جہاں شور وشغب نہ ہو انسان کامل یکسوئی کے ساتھ عبادت کر سکے اس لحاظ سے میں تو مسجدوں کے ساتھ دکانوں وغیرہ کے بنوانے کا قائل نہیں ہوں۔مسجد مسجد ہی ہونی چاہیے۔لوگ بالعموم اپنے مکانوں کے ساتھ دکانیں وغیرہ نہیں بننے دیتے تاکہ ان کے گھروں کا ماحول پر سکون رہے تو اللہ تعالیٰ کے گھر کو