تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 179
تاریخ احمدیت۔جلد 26 179 سال 1970ء غیر ملکی پریس نے تو بڑی وسیع القلمی کا ثبوت دیا ہے مگر ملکی پریس نے کوئی خبر شائع نہیں کی۔فرمایا۔ان کے سینما کے کسی اشتہار کے پہلو میں چند سطری ایک غلط سی خبر کے لئے ان کا زیر بار احسان ہونے کی ہمیں ضرورت ہی کیا ہے؟ کمیونسٹ ممالک کے بعض سعید الفطرت لوگوں کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کو حضور نے بڑا ہی خوش آئند قرار دیا اور فرمایا اب وہ وقت دور نہیں جب یوگوسلاوین احمدیوں کے ذریعہ انشاءاللہ کمیونسٹ ممالک میں بھی اسلام کو فروغ حاصل ہوگا ویسے بھی عالمی دباؤ کے نتیجہ میں روس میں مذہب پر مختلف قیود کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے اور مذہبی آزادی کی ایک خوشگوار رو چل پڑی ہے۔اس موقع پر ملک محمد عبداللہ صاحب ریذیڈنٹ انجینئر (راولپنڈی الیکٹریکل پاور کمپنی) ایبٹ آباد حضور کے دست مبارک پر بیعت خلافت سے مشرف ہوئے۔محترم جناب سید حسنات احمد صاحب دہلوی ایڈیٹر نیوکینیڈا (New Canada) کا بیان ہے کہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث جب اپنے افریقہ کے تاریخی دورے سے جون ۱۹۷۰ء میں واپس ہوئے تو پہلا جمعہ جور بوہ میں حضور نے پڑھایا اور جس میں کم و بیش دس ہزار افراد نے حصہ لیا اس میں میری والدہ مرحومہ بیگم شفیع کا نماز جنازہ بھی پڑھایا۔حضور فوری بعد ایبٹ آباد گرمیاں گزارنے کے لئے تشریف لے گئے خاکسار نے بھی ایبٹ آباد کا رخ کیا اور حضور کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا۔حضور نے نماز مغرب کے بعد مجلس عرفان میں اپنے دورے کے بعض واقعات سنائے جس پر خاکسار نے عرض کیا کہ حضور یہ دورہ تاریخی دورہ ہے اور اس تاریخی دورے کو قلم بند کرنا ضروری ہے۔حضور نے مجھ سے فرمایا کہ پھر کریں۔دوسرے دن حضور نے اپنی ملاقات میں کوئی دوسو تصاویر دکھائیں جو حضور کے افریقہ کے دورے کے بارہ میں تھیں۔میں نے عرض کیا کہ ان تصاویر پر مبنی ایک مجلہ شائع کرنا ضروری ہے اور پھر عرض کیا کہ خاکسار کو ان بہت سے افریقی ممالک کے شہروں سے اچھی طرح واقفیت نہیں اس پر حضور نے اس وقت کے وکیل التبشیر (مولا نانسیم سیفی صاحب) کو ایبٹ آبادطلب کیا اور انہوں نے ایک باتصویر مجلہ بنانے میں میری مدد کی۔حضور نے اس مجلہ کا نام ”افریقہ اسپیکس (Africa Speaks ) رکھا۔یہ پہلا با تصویر نگین مجلہ ہے جو جماعت نے ایک خلیفہ کے بارہ میں شائع کیا۔تمبر۔اس روز جماعت احمد یہ ایبٹ آباد کی طرف سے حضور کے اعزاز میں دعوت عصرانہ دی 131۔