تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 165 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 165

تاریخ احمدیت۔جلد 26 165 سال 1970ء عمل میں آئیں کیونکہ جنگ جیتنے کیلئے سلسلہ احمدیہ کو ان کی ضرورت ہے چنانچہ فرمایا:۔افریقہ میں لڑی جانے والی جنگ کو جیتنے کے لئے ہم پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں بہت ساری باتیں میں پہلے بیان کر چکا ہوں ثلاً نصرت جہاں ریز روفنڈ قائم کیا گیا ہے ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے ہمیں ٹیچرز کی ضرورت ہے۔ڈاکٹروں اور ٹیچروں کو رضا کارانہ طور پر خدمات پیش کرنے کی جو میں نے تحریک کی تھی اس سلسلہ میں شاید ایک بات رہ گئی تھی وہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے جن کی بیویاں بھی ڈاکٹر ہوں اور ایسے ٹیچر ز کی بھی ضرورت ہے جن کی بیویاں بھی وہاں کام کر سکیں یعنی وہ بھی بی اے، بی ایڈ یا بی ایس سی، بی ایڈ ہوں کیونکہ وہاں بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلمان لڑکی تعلیم میں بہت پیچھے ہے اور پردے میں غلو کر رہی ہے اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ وہاں بے پردگی نہیں اور بے پردگی سے پردہ میں غلو اچھا ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں کی مستورات علم سے ( اور علم دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں اور ان سے وہ ) محروم ہیں۔ہماری طرف سے یہ کوشش ہو رہی ہے کہ ایسے علاقوں میں باپردہ پڑھائی کا انتظام کیا جائے تا کہ اگلی نسل کی بچیوں کو ہم علم کے نور سے منور کر سکیں۔ہمیں بڑی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کچھ ہونہیں سکتا۔جب اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اپنے پیار کا جلوہ دکھائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔128 جولائی کو حضور نے چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان اور عبدالغنی صاحب رشدی (راولپنڈی) کو جماعتی امور کے سلسلہ میں ضروری ہدایات دیں اور مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کرانے کے بعد احباب کو اپنے اہم ارشادات سے فیضیاب کیا۔اس موقع پر مقامی جماعت کے علاوہ بابو قاسم الدین صاحب امیر جماعت سیالکوٹ بھی موجود تھے۔حضور نے نائیجیریا اور سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یوں لگتا ہے کہ دنیا بدل گئی ہے اور ایک عظیم انقلاب رونما ہو رہا ہے۔افریقن ممالک میں حکومتی سطح پر جماعتی خدمات کی قدر دانی اور ان کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاتا ہے اور وہاں کی حکومتیں اب نئے ہسپتال اور سکول کھولنے کے سلسلہ میں