تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 2
تاریخ احمدیت۔جلد 26 2 سال 1970ء عمیق مطالعہ کرنے پر ہماری روح اچانک انتہائی مسرت و انبساط سے چلا اٹھتی ہے کہ اے ہمارے خدا ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔اصل عبادت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر البہی صفات جذب کر لیں۔الہی صفات ہی ہمارا لباس ن جائیں اور انہی صفات کے رنگ میں رنگین ہو جائیں یہاں تک کہ ہم عاجز اور شئے لا محض ہو جائیں۔اس (اللہ ) سے الگ ہماری شخصیت ہی باقی نہ رہے اور ایک قسم کی موت ہم پر حاوی ہو جاوے۔ہم الہی خصوصیات میں ڈوب جائیں اور اس کی خوبصورتی اور مہربانی کا زندہ نمونہ بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔کمال عبد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ الله یعنی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔اور جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جاوے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لے جاتا ہے اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (انحل:۵۱) کی ہوتی ہے۔66 اس ضمن میں آیت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ہمیشہ ہی ہمارے مدنظر ہونی چاہیے۔آیت کا مطلب ہے کہ اے خدا ہم تیری ہی پرستش و عبادت کرتے ہیں اور صرف تیری ہی مدد کے طلبگار ہیں۔صحیح اور اصل عبادت کرنے کے قابل بننے کے لئے بھی ہم اللہ تعالیٰ کی مدد کے ہی محتاج ہیں۔اسی کی ہدایت ، مدد اور رحمانیت کے ضرورتمند ہیں لہذا ہمیں یہ عادت بنا لینی چاہیے کہ اسی کی طرف جھکیں تا وہ ہمیں اور ہماری اولا دوں کو، کہ سب عاجز بندے ہیں توفیق بخشے کہ اس کی رضا اور محبت کے راستوں پر چلیں۔آمین۔مرزا ناصر احمد۔خلیفہ اسیح الثالث ۱۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔ربوہ پاکستان چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں میں آمد مورخہ ے جنوری ۱۹۷۰ء کو محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت انصاف میجر