تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 97 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 97

تاریخ احمدیت۔جلد 26 97 سال 1970ء عمارت پر چراغاں کا اہتمام کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن چراغاں کے اہتمام کے اعتبار سے جامعہ احمد یہ سب پر سبقت لے گیا۔نہ صرف جامعہ کی ساری عمارت رنگ برنگ کے قمقموں کی دل آویز روشنی سے جگمگ جگمگ کر رہی تھی بلکہ اونچے اونچے درختوں اور زمین کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے چھوٹے چھوٹے پودوں تک میں چراغاں کے اہتمام نے پوری عمارت کی سجاوٹ میں ایک ایسی دلکشی پیدا کر دی تھی جس نے اسے تمام دوسری عمارتوں سے ممیز کر دکھایا تھا۔مزید برآں ایک خاص جدت یہ کی گئی تھی کہ جامعہ کے ہال کی چوڑائی کے رخ ایک پوری دیوار پر بجلی کے لا تعداد سرخ اور سبز قمقموں کو ملا کر نہایت جلی اور نمایاں حروف میں سرزمین بلال ( یعنی افریقہ ) کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام درج کیا گیا تھا۔چنانچہ حسب ذیل عبارت آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اپنی سرخ اور سبز روشنی کی وجہ سے دور دور سے بآسانی پڑھی جاسکتی تھی۔جس کے الفاظ یہ تھے:۔”اے سرزمین بلال بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔بجلی کے قمقموں سے بنی ہوئی اس نہایت جلی روشن اور جاذب توجہ عبارت نے جامعہ احمدیہ کی عمارت پر چراغاں کے اہتمام کو چار چاند لگا دئے۔اسی طرح ربوہ کی جملہ مساجد میں سے مسجد مبارک اور مسجد ناصر ( جو دارالرحمت غربی میں رحمت بازار کے قریب واقع ہے) کی روشنی خاص شان کی حامل تھی۔علاوہ ازیں محلہ جات میں بہت سے لوگوں نے بھی اپنے اپنے مکانات پر چراغاں کا اہتمام کیا۔25 اس تاریخی اور یادگار سفر نے براعظم افریقہ کی مذہبی اور سماجی تاریخ پر بہت گہرے اثرات ڈالے ہیں جس کا ذکر آئندہ اپنے اپنے موقع پر آئے گا۔پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم اے کی قلم کی لکھی ہوئی اس اہم سفر کی حقیقت افروز تفصیلی رپورٹیں اور تصاویر خاص اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ اخبار الفضل ربوہ نے آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دیں۔”الفضل نے شاندار خیر مقدم نمبر بھی شائع کیا۔علاوہ ازیں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے رسالہ ”خالد (اکتوبر ۱۹۷۰ء) کا اور مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے اپنے سالانہ انگریزی سود بینیئر کا خصوصی نمبر خاص اسی موضوع پر شائع کیا۔اسی طرح مجلس نصرت جہاں تحریک جدید ربوہ کی طرف سے افریقہ سیکس (Africa Speaks) کے نام سے ایک نہایت دیدہ زیب اور معلومات افروز رسالہ منظر عام پر آیا جو سفرا فریقہ کے کوائف و