تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 96 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد 26 96 سال 1970ء استقبال کرنے کی سعادت حاصل کی۔حضور نے حضرت مولوی محمد دین صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کو معانقہ کا شرف بھی عطا فرمایا۔بعدہ حضور نے جملہ حاضر احباب کو جن میں امراء اضلاع بھی شامل تھے، مصافحہ کا شرف بخشا۔پھر حضور ۲ بج کر دس منٹ پر قصر خلافت کے اندر تشریف لے گئے۔دریں اثناء احباب نماز ظہر ادا کرنے کے لئے جوق در جوق مسجد مبارک میں آجمع ہوئے۔اڑھائی بجے حضور نے مسجد مبارک میں تشریف لا کر اس خیال کے ماتحت کہ بہت سے احباب بیر ونجات سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور انہیں واپس جانا ہے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔حضور انور کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کے بعد اہل ربوہ حضور کی کامیاب و کامران بخیر و عافیت مراجعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہوئے خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔۸ جون کا دن ان کے لئے ایک نئی عید کا دن تھا، بر اعظم افریقہ میں اسلام کی فتح اور اس کے غلبہ کی عید کا دن اور ان کے مظفر ومنصور امام ہمام سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کے کامیابی و کامرانی کے ساتھ واپس تشریف لانے کی عید کا دن۔حضور انور کی افریقہ کے نہایت کامیاب تبلیغی سفر سے فتح وظفر کی آئینہ دار مراجعت کی خوشی میں اس رات ربوہ کی تمام اہم مرکزی عمارتوں، مساجد اور بازاروں میں بجلی کے رنگ برنگ کے قمقموں سے چراغاں کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔چونکہ استقبال کے راستہ پر بنی ہوئی آٹھ آرائشی محرابوں پر بھی چراغاں کا اہتمام تھا۔اس لئے قصر خلافت سے شہر کے اندر ہی اندر بسوں کے اڈہ تک تمام راستہ رنگ برنگے قمقموں کی دل آویز روشنیوں سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔اس راستہ پر ہی کیا جملہ مساجد پر چراغاں کے خصوصی اہتمام کی وجہ سے سارا شہر ہی بقعہ نور بنا ہوا تھا۔جملہ محلہ جات کی مساجد کے علاوہ جن عمارتوں پر چراغاں کا اہتمام تھا ان میں قصر خلافت ، خلافت لائبریری ، مسجد مبارک، ہال لجنہ اماءاللہ، دفاتر صدر انجمن احمدیہ، دفاتر تحریک جدید ، دفتر فضل عمر فاؤنڈیشن، دفتر جلسہ سالانہ ٹاؤن کمیٹی ، دفتر وقف جدید، ایوان محمود، دفتر مجلس انصار الله مرکز یہ، جامعہ نصرت ، نصرت گرلز ہائی سکول، جامعہ احمدیہ، تعلیم الاسلام ہائی سکول مع بورڈنگ و مسجد نور تعلیم الاسلام کالج اور فضل عمر ہوٹل کی عمارات شامل تھیں۔علاوہ ازیں گولبازار کے میدان پانی کی بلند و بالا ٹینکی پر بھی رنگ برنگے قمقموں کی لڑیاں لٹکائی گئی تھیں جو دور دور سے نظر آنے کے باعث بہت بہار دے رہی تھیں۔یوں تو ہر ادارہ نے اپنی اپنی