تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 54
تاریخ احمدیت۔جلد 25 54 سال 1969ء مسلمان سے ہی تعلق نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان سے اس کا تعلق ہے جہاں تک ہمارا اختیار ہے اگر کوئی ہمارے ذریعہ اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہے تو ہم اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے تیار ہیں جو چیز ہماری طاقت میں نہیں اس کی وجہ سے ہم پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ایک غیر از جماعت ہونہار طالب علم جب لاہور میں ہمارا کالج تھا اس زمانہ میں ایک دفعہ ایک بیچارہ اور غریب طالب علم یونیورسٹی کے امتحان میں اول آیا لیکن اس کی غربت کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔کسی اخبار نے اعلان کیا کہ اس طرح فلاں لڑکا جو یونیورسٹی کے امتحان میں اول آیا ہے بڑے غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتا۔میں نے اسی اخبار کے ذریعہ ( یا براہ راست اس وقت پوری تفصیل مجھے یاد نہیں ) اس کو لکھا کہ تم ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہاری وہ تمام ضرورتیں پوری کر دیں گے جو تعلیم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔تمہیں فیس دینے کی ضرورت نہیں۔کتا بیں ہم خرید کر دیں گے۔اگر کبھی بیمار ہوئے تو علاج بھی ہم کروائیں گے۔ان کے علاوہ دوسری ضروریات بھی پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔جب ہماری طرف سے خدمت کا اظہار کیا گیا تو بعض اور لوگ بھی اس کی مدد کے لئے تیار ہو گئے انہوں نے یہ خیال کیا کہ احمدیوں کے ذریعہ اسے امداد نہیں ملنی چاہیے۔لیکن ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ اسے کس کے ذریعہ امداد ملتی ہے۔ہم تو صرف یہ چاہتے تھے کہ اس کو مد دل جائے۔چنانچہ اس کی پڑھائی کا بڑا اچھا انتظام ہو گیا اور وہ انتظام ہماری وجہ سے ہی ہوا اور ہمیں اس سے بڑی خوشی ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کو بڑا سعید بنایا تھا اس نے مجھے خط لکھا کہ آپ نے مجھ سے میری تعلیمی ضروریات پورا کرنے کا وعدہ کیا اور پیش کش کی کہ ہم تمہارا سارا خرچ برداشت کرتے ہیں اس کے نتیجے میں بعض اور لوگوں نے جو آپ کو پسند نہیں کرتے میری امداد کا ارادہ کر لیا ہے۔مرا تو دل چاہتا ہے کہ ان کی امداد قبول نہ کروں اور آپ کے پاس ہی آجاؤں لیکن چونکہ میرے والد اس بات پر راضی نہیں اس لئے میں مجبور ہوں