تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 361 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد 25 361 سال 1969ء مسٹر زیڈ او الیاس صاحب نے شرکت کی۔اس سال ایک رسالہ این آؤٹ لائن آف اسلام (An Outline Of Islam) پندرہ ہزار کی تعداد میں پانچویں بار شائع کیا گیا۔نیز قرآن کریم کے پہلے پارہ کا یورو با زبان میں ترجمہ تین ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔یہ ترجمہ سابق امیر مکرم نسیم سیفی صاحب نے تیار کروا کے شائع کرایا تھا اور بہت لمبے عرصہ سے نایاب تھا۔اس سال چھ نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔مولوی محمد بشیر شاد صاحب مبلغ کا نوسٹیٹ نے تین کمشنروں کے اعزاز میں ایک ڈنر دیا جس میں علاوہ مقامی احباب کے بکثرت مقامی دوست شامل ہوئے۔اس تقریب میں آپ نے الحاج تنکوریکاسی کمشنر اطلاعات کا نو کو قرآن کریم کا تحفہ پیش کیا۔بعض دوسرے مواقع پر بھی آپ نے کانو کے پانچ معز ز مسلمانوں کو جن میں کمشنر بحالیات الحاج باباؤن یا پا بھی شامل تھے ، قرآن مجید تحفہ پیش کیا۔ریڈیو اور اخبارات میں اس کا خوب چرچا ہوا۔مولوی سلطان احمد صاحب شاہد اس سال اپریل میں پاکستان سے نایجیریا پہنچے تھے۔ماہ اگست میں آپ کی تقرری مڈ ویسٹرن سٹیٹ میں ہوئی اور اگبیڈے مقام پر ہیڈ کوارٹر تجویز کیا گیا۔جہاں آپ نے درس اور تعلیم القرآن کلاس کا اجراء کیا۔مولوی فضل الہی صاحب انوری نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں نائیجیریا کے تمام مسلمانوں سے خانہ جنگی کے اختتام اور مسلمانان عالم کے امن وسلامتی کیلئے ایک خصوصی ہفتہ دعا منانے کی اپیل کی۔یہ خطبہ براڈ کاسٹ کیا گیا اور ملکی اخبارات میں بھی جماعت احمدیہ نائیجیریا کی طرف سے شائع ہوا۔نائیجیریا میں پاکستان کے نئے ہائی کمشنر جناب ڈاکٹر ایس ایم قریشی صاحب کے اعزاز میں برسٹل ہوٹل میں ایک استقبالیہ دیا گیا جس میں احمدیوں کی کثیر تعداد کے علاوہ لیگوس میں پاکستانی احباب اور مسلم ممالک کے سفراء نے شرکت کی۔جماعت احمد یہ نائیجیریا کے جنرل سیکرٹری نے اپنے ایڈریس میں بتایا کہ پچھلے بیس سال میں جماعت احمد یہ نائیجیریا نے پاکستان کے لئے کتنی اہم خدمات انجام دی ہیں۔بعدہ جناب ہائی کمشنر صاحب نے نہایت عمدہ پیرایہ میں جماعت احمدیہ نائیجیریا کی ان تمام خدمات کو بہت سراہا جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ملک کے اندر اور باہر سرانجام دے رہی ہے۔جماعت احمدیہ نائیجیریا کی اکیسویں مجلس شوری اگست کے آخر میں لیگوس کے مرکزی مسجد میں منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کی جماعتوں سے ایک سو سے زیادہ نمائندگان نے شرکت کی۔شوری دو دن تک جاری رہی جس میں مفید فیصلے کئے گئے۔ان فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے انتظامیہ کمیٹی کا ایک