تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 336 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 336

تاریخ احمدیت۔جلد 25 336 سال 1969ء اہمیت کا حامل تھا جبکہ سیرالیون کے گورنر جنرل معہ وزرائے مملکت اور دیگر اعلیٰ حکام سکول میں تشریف لائے اور اس کے سائنس اور تنظیمی بلاکوں کا افتتاح فرمایا۔گورنر جنرل نے اپنی افتتاحیہ تقریر میں فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے اس ملک میں قیام کے بعد سے اب تک احمدیہ مبلغین نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان کی بناء پر پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل نہایت روشن اور درخشندہ ہے۔احمدی مبلغین جفاکش، انتھک اور ہمت نہ ہارنے والے واقع ہوئے ہیں۔شکست اور مایوسی اُن کی لغت میں نہیں۔ان مبلغین کا پاکستان جیسے دور دراز ملک سے ہماری مدد کے لئے آنا فی ذاتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ انسانی ہمدردی کے بے مثال جذبہ سے سرشار ہیں۔افتتاحی تقریر کے بعد گورنر جنرل نے سکول کی نئی انتظامیہ اور سائنسی عمارت کا معاینہ فرمایا۔آپ نے بلڈنگ اور سکول کے دفاتر کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی تعریف کی اور خوشنودی کا بار بار ذکر فرمایا۔اس دوران مبارک احمد صاحب نذیر پرنسپل احمد یہ سیکنڈری سکول نے آپ کو قرآن کریم انگریزی کا تحفہ پیش کیا۔اس انمول تحفہ پر آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی خدمت قرآن کی تعریف کی۔ریڈ یوسیرالیون نے اسی روز شام کو انگریزی اور کریول ( سیرالیون کی لوکل زبان جو پورے ملک میں بولی و سمجھی جاتی ہے۔) کی نشریات میں گورنر جنرل اور پرنسپل صاحب سکول ہذا کی تقاریر کے اقتباسات نشر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی تعلیمی اور مالی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔سرکاری اخبار ڈیلی میل نے اپنی ۴ مارچ ۱۹۶۹ء کی اشاعت کے صفحہ اول پر احمد یہ سیکنڈری سکول جورو کی انتظامی اور سائنسی بلڈنگ کے افتتاح کے موقع پر پرنسپل صاحب کی تقریر کے اقتباسات اور گورنر جنرل صاحب کی تقریر اور خاص طور پر وہ حصہ شائع کیا جس میں آپ نے جماعت احمدیہ کی خدمات کا اعتراف فرمایا ہے۔گورنر جنرل (سر بانجا تیجان ) صاحب نے اپنی اہلیہ اور وزراء مملکت سمیت افتتاحی تقریب کے معاینہ کے بعد لاگ بک میں بایں الفاظ اپنے تاثرات قلمبند فرمائے۔تقریب بڑی پُر اثر تھی۔سکول کے طلباء بڑے چاق و چوبند ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تربیت بڑے اچھے طریق سے کی گئی ہے۔یہ وہ خوبی ہے جو ہم اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگر یہ سکول اپنی ان روایات کو قائم رکھ سکا تو ہماری قوم کی صحیح خطوط پر تعمیر میں اس سکول کا حصہ نمایاں ہوگا۔میں سکول کی ترقی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں“۔