تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 330 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 330

تاریخ احمدیت۔جلد 25 330 سال 1969ء سے دیکھتا ہے۔گہری شرمندگی میں نہیں ڈالتا ؟ اسلام میں ہمارے مذہب کے مقابلہ میں بہت کم حکمی ہے۔وہ اللہ۔خدائے واحد کے پیغام پر سب سے زیادہ غور وفکر پر زور دیتا ہے۔اسلامی تعلیمات مسیحی تعلیمات کی نسبت (اگر مسیحی تعلیمات کی پیروی کی جائے ) عمل کے لحاظ سے زیادہ سہل ہیں۔مشتاق احمد باجوہ روائتی مشرقی استقامت کے ساتھ تین مختلف مدارج کی جماعتوں میں بچوں اور بڑوں کو عربی کی تعلیم دیتے ہیں۔اس زبان کے سیکھ لینے سے طلباء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ صحیفۂ مقدس قرآن کی اصل عبارت کو پڑھ سکیں۔دوسری باتوں میں ان کی مصروفیات دوسرے مذاہب کے ایسے مراکز کے نگرانوں سے مشابہ ہیں مثلاً افراد جماعت کی مذہبی راہنمائی ، بیماروں کی عیادت، ضرورتمندوں کی برادرانہ امداد، دینی موضوعات پر تقاریر اور شادی کی تقاریب، وہ اسے ایک مذہبی فریضہ اور انسانی ہمدردی کا ایک تقاضا تصور کرتے ہیں کہ ہر مشورہ وراہنمائی کے طالب کو وقت دیں۔پس آپ کی کارگذاری دریائے طٹ پر ہمارے وسیع المشرب شہر کے محلہ دے آلپ کے بے کیف ماحول میں مشرقی ثقافت ایک رنگ پیدا کر رہی ہے۔سال کے آخری چار مہینوں میں نہایت کثرت سے زائرین مسجد محمود میں تشریف لائے جن میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک نو جوانوں کی اکثریت تھی جنہیں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ انچارج سوئٹزر لینڈ مشن نے مدلل اور دل آویز انداز میں پیغام حق پہنچایا اور لٹریچر پیش کیا۔ایک پادری صاحب نے جن کے چرچ میں تین ہزار سے اوپر ارکان تھے۔گفتگو کے آخر میں شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلا مسلمان ایسا دیکھا ہے جس کو اپنے معتقدات پر اس قدر یقین ہے۔۱۴ ستمبر ۱۹۶۹ء کوسوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے نئے سفیر ہز ایکسی لینسی مسٹر افضل اقبال مسجد محمود میں تشریف لائے۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اس موقعہ پر زیورک اور قریبی علاقوں میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو بھی مدعوکر لیا۔ہز ایکسی لینسی افضل اقبال نے تحریک فرمائی کہ سوئس پاکستان مجلس کا قیام عمل میں لایا جائے۔چنانچہ ایک کمیٹی تشکیل کی گئی۔باجوہ صاحب نے ہز ایکسی لینسی کو قرآن کریم اور دیگر لٹریچر پیش کیا جو انہوں نے خوشی سے قبول کیا۔سوئس ٹیلی ویژن نے باجوہ صاحب کو اپنے سٹوڈیو میں ۲۴ ستمبر کو مدعو کیا اور ہندو مذہب، بدھ مذہب ،شنٹو ازم اور اسلام پر دستاویزی فلمیں دکھائیں اور لنچ کے وقفہ پر اجلاس کیا جس میں سوس ٹیلی ویژن کے مذہبی و تمدنی شعبہ نے بتایا کہ ان فلموں کے سوئٹزرلینڈ میں دکھائے جانے کے بعد