تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 321 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 321

تاریخ احمدیت۔جلد 25 321 سال 1969ء قرآن مجید اور بائبل کے حوالوں سے مرصع تھی۔آپ نے ثابت کیا کہ مسیح کی آمد ثانی کے بارہ میں خود حضرت عیسی علیہ السلام کے اپنے بیان اور عقیدہ کے عین مطابق اور مسیح کے ظہور ثانی سے متعلق سبھی علامات پوری ہو چکی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زمانہ اور اس کے حالات ایک آسمانی رہنما کا تقاضا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمان کے مطابق گذشتہ زمانوں کی طرح اس زمانہ میں بھی ایک ہادی برحق کو مبعوث فرمایا۔وہ شخص ایک ایسے گمنام گاؤں میں مبعوث ہوا جس کی واحد درسگاہ ایک پرائمری سکول تھا۔اس شخص نے دعوی کیا کہ خدا تعالیٰ نے اسے الہام سے نوازا ہے۔اس شخص کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے وہ روحانی راہنمائی مہیا فرمائی جس کا یہ زمانہ مقتضی تھا۔چنانچہ آپ کے جذب روحانی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج آپ کے متبعین میں اخلاق و روحانیت کی ایسی روح جلوہ گر نظر آتی ہے جو اس زمانہ کا گوہر نایاب ہے۔تقریر کے بعد میں منٹ تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔یہاں سے فارغ ہونے کے بعد فرینکفورٹ کے ایک بہت بڑی انشورنس کے ادارہ کی طرف سے دعوت تھی۔اس ادارہ کے ایک ڈائریکٹر ڈاکٹر کیوی تھے جنہوں نے احمدی مبلغین کے اشتراک عمل سے قرآن پاک کا اسپرانٹو زبان میں پہلا ترجمہ کیا اور اس کا پیش لفظ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے تحریر فرمایا تھا۔ڈاکٹر کیوسی حضرت چوہدری صاحب کے قیام کے دوران ہمہ وقت اپنی کار سمیت مصروفِ خدمت رہے۔دوپہر کے کھانے کی دعوت مسٹر حسن الافرادی کی طرف سے فرینکفورٹ کے سب سے بڑے ہوٹل فرینکفورٹ ہوف میں مقرر تھی جس میں شہر کے میئر بھی مدعو تھے۔دوپہر کے کھانے کے بعد جمعہ و عصر کی نمازیں مشن ہاؤس میں جمع کر کے ادا کی گئیں جس کے بعد تین بجے بعد دو پہر فرینکفورٹ کے مئیر کی طرف سے اس تاریخی ہال میں حضرت چوہدری صاحب کے اعزاز میں استقبالیہ تھا جہاں ہولی رومن امپائر کے دور میں بادشاہوں کی رسم تاجپوشی ادا ہوتی تھی۔میر صاحب نے حضرت چوہدری صاحب کو ایوانِ قیصر کا معاینہ بھی کرایا۔جس میں اُن تمام شہنشاہوں کی تصاویر آویزاں تھیں جن کی رسم تاجپوشی وہاں ادا ہوئی۔پروگرام کے مطابق شام چھ بجے پریس کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں ریڈیو، اخبارات اور اہم خبر رساں ایجنسیوں کے نمائندے موجود تھے۔ملکی ریڈیو کے علاوہ سمندر پار پروگرام کے تحت اردو اور انگریزی کے بھی مختلف پروگراموں میں حضرت چوہدری صاحب کے انٹرویو نشر کئے گئے۔