تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 306 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 306

تاریخ احمدیت۔جلد 25 306 سال 1969ء مقامی سکول میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے متواتر کئی گھنٹے مختلف کلاسز میں اسلام کی تعلیمات پر لیکچر دیا جس کے بعد سوال وجواب کا موقع بھی دیا گیا۔شکاگو کے مبلغ صاحب کو ایک چرچ میں تقریر کی دعوت ملی جہاں کا روباری طبقہ سے کثیر احباب بھی آئے تھے۔چنانچہ تقریر کی گئی جس کے بعد سوال و جواب بھی ہوئے۔واشنگٹن کی ایک نواحی بستی Bethesda کے ایک یونیٹیرین چرچ کی جانب سے طلباء کی ایک کلاس میں لیکچر کی دعوت ملی۔یہ کلاس چرچ میں موازنہ مذاہب کے پروگرام کے ماتحت منعقد ہوئی تھی۔چنانچہ ان کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس کے بعد طلباء نے سوالات پوچھے۔اس کامیاب پروگرام کے ماتحت ان کو اسلامی لٹریچر بھی دیا گیا۔شکا گو میں ایک ٹیلیویژن سٹیشن نے ہفتہ میں دوبار اسلام پر مختصر سا پروگرام نشر کیا۔یہ پروگرام گفتگو پر مشتمل تھا۔چوہدری شکر الہی صاحب نے اس میں باقاعدہ حصہ لیا۔اس طریقے سے لاکھوں افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔اس پروگرام کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر چھ دفعہ ٹیلیویژن پر دکھائی گئی۔یوم التبلیغ کے موقع پر پٹسبرگ، نیو یارک اور کلیولینڈ میں جلسے منعقد کیے گئے۔ان جلسوں کے متعلق اشتہارات اخباروں میں دیے گئے۔چنانچہ بہت سے غیر از جماعت احباب نے بھی ان میں شرکت کی۔اس طرح اسلام کا پیغام پہنچانے کا موقع ملا۔خدام الاحمدیہ کا ایک اجتماع تین دن کے لیے زیر سر کر دگی نا ئب صد ر مکرم قریشی مقبول احمد ڈیٹین میں منعقد ہوا۔جس میں تمہیں کے قریب نمائندگان شامل ہوئے۔سال کی آخری سہ ماہی میں تبلیغ کا کام سارے حلقوں میں کامیابی سے جاری رہا۔کئی احباب کو تبلیغی خطوط لکھے گئے۔ایک اشتہار Jesus Christ and the Bible تین بار شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔چوہدری عبدالرحمن خان صاحب بنگالی جو ماہ اکتوبر ۱۹۶۹ء میں دوبارہ یہاں خدمت دین کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی اشاعتِ حق میں گرمجوشی سے مصروف ہو گئے اور بسوں کے اڈوں، سٹوروں اور دفتروں میں جا کر اشتہارات تقسیم کرتے رہے۔سید جواد علی صاحب نے واشنگٹن کے قریباً نوے افراد تک بذریعہ ملاقات احمدیت کا پیغام پہنچایا اور بیرون واشنگٹن کے ستر افراد کولٹریچر بھجوایا۔تمہیں کے قریب غیر مسلم اصحاب جن میں واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک طالب علم اور نیو یارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک طالب علم بھی تھے واشنگٹن مشن ہاؤس آئے جن سے آپ نے احمدیت پر خاصی دیر تک تبادلۂ خیالات کیا اور لٹریچر بھی پیش کیا۔اسی طرح واشنگٹن کی ایک نواحی بستی ہائیٹس ول، میری