تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد 25 297 سال 1969ء کیلئے ہندوستان بھر کا دورہ کرنے آئے ہیں۔اس موقعہ پر جہاں ہم مسیحی مشنوں کا معاینہ کر رہے ہیں اور ان مقامات کے مشنریوں کے کام کا جائزہ لے رہے ہیں وہاں اس ملک کے دیگر مذاہب کے مراکز اور ان کی مذہبی مساعی کا مطالعہ بھی ہمارے مدنظر ہے۔اسی کے مطابق ہمارا با قاعدہ پروگرام جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان آنے کا بھی تھا۔چنانچہ اسی پروگرام کو پورا کرتے ہوئے ہم سب آج یہاں وارد ہوئے ہیں اور ہمیں آپ کا مرکز دیکھ کر اور آپ کی باتیں سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔آپ کے خیالات ہمارے لئے جدید معلومات کا باعث ہوئے ہیں۔ہم آپ کا محبت سے دیا گیا لٹریچر بغور مطالعہ کریں گے۔آخر میں مسٹر جیمز نے وفد کے ممبران کی طرف سے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔اجلاس کے بعد مہمانوں سے درخواست کی گئی کہ ملحقہ کمرہ میں جماعت کا لٹریچر موجود ہے۔خود تشریف لے جا کر حسب پسند انتخاب فرمالیں۔چنانچہ سبھی اراکین نے اشتیاق اور دلچسپی سے جماعت کا یہ سارا لٹریچر ملاحظہ کیا اور اپنی اپنی پسند کی کتب اور پمفلٹ انتخاب کئے۔پارٹی لیڈر مسٹر جیمز کو ان کی خواہش کے مطابق جملہ لٹریچر کی ایک ایک کاپی مع ایک نسخہ انگریزی ترجمۃ القرآن صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے بطور ہدیہ پیش کیا۔اسی موقعہ پر آنے والے امریکن معزز مہمانوں کا ایک گروپ فوٹو بھی ہوا۔وفد کے جملہ افراد جماعت احمدیہ کی خوش اخلاقی، مہمان نوازی تنظیم ، اسلام کی ٹھوس تبلیغ و اشاعت کے صحیح جذبہ سے بہت متاثر ہوئے اور بار بار شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی اور مسرت کے ساتھ حسب پروگرام واپس روانہ ہو گئے اور اسی روز امرتسر سے بذریعہ طیارہ دہلی پہنچ گئے۔راٹھ (یو۔پی ) میں احمد یہ صوبائی کانفرنس 52 جماعتہائے احمدیہ اتر پردیش میں احمدیہ کا نفرنس کا سلسلہ ۱۹۶۵ء سے جاری تھا۔اس سال یہ صوبائی کانفرنس ۲۳،۲۲/اکتوبر ۱۹۶۹ء کو راٹھ ضلع ہمیر پور علاقہ بندھیل کھنڈ میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کے جملہ انتظامات کیلئے ایک مجلس استقبالیہ کا قیام عمل میں آیا جس کے صدر مولوی بشیر احمد صاحب فاضل انچارج مبلغ دہلی اور سیکرٹری انوار محمد صاحب آف راٹھ مقرر ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کا نفرنس کے نام حسب ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا :۔احباب جماعت احمد یہ راٹھ ! اللہ تعالیٰ آپ کی کانفرنس اور مشور ہوں میں برکت دے اس میں شمولیت کرنے والوں کو میرا السلام علیکم پہنچا دیں۔(خلیفہ اسیح)