تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 295
تاریخ احمدیت۔جلد 25 295 سال 1969ء صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی سکھ نیشنل کالج قادیان میں ایک تقریر ۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو سکھ نیشنل کالج قادیان کی اتہاسک سوسائٹی کی طرف سے بابا نانک صاحب کی پانچصد سالہ برسی کی تقریب منعقد ہوئی۔جس میں کالج سٹاف اور طلباء کے علاوہ متعدد مقامی معززین اور شملہ سے جناب پروفیسر عبدالمجید خان صاحب سابق ممبر سروس کمیشن پنجاب بھی مدعو تھے۔سوسائٹی کی خواہش پر صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے حضرت بابا نانک کی سوانح و تعلیمات پر ایک حقیقت افروز تقریر کی۔آپ نے بتایا کہ حضرت بابا صاحب خدا کے ولی اور بزرگ تھے۔آپ نے توحید باری تعالیٰ کی تعلیم دینے اور اسی کا پر چار کرنے میں اپنی تمام مساعی کو وقف فرما دیا۔یہ آپ کے پر چار کا مخصوص اور پسندیدہ طریق تھا جو صلح کل دستور العمل پر مبنی تھا۔آپ کو خدا سے ہمکلامی کا بھی شرف حاصل تھا۔دین اسلام اور مسلمانوں سے غیر معمولی محبت اور اُلفت رکھتے تھے۔مسلم علماء اور فقراء کی صحبت سے فیضیاب ہونے اور روحانی باتیں کرنے میں دلی مسرت پاتے۔اس موقعہ پر دیگر مقامی مقررین کے علاوہ جناب پروفیسر عبدالمجید خان صاحب کی فاضلانہ تقریر بھی ہوئی۔جسے حاضرین نے بہت پسند فرمایا۔آپ نے حضرت بابا نانک کی زندگی کے متعدد دلچسپ واقعات اور شلوک سنا کر مجلس کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔آخر میں شریمتی سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ نے کالج کے طلباء کو خطاب کرتے ہوئے انہیں نصیحت کی کہ ایسی دھارمک تقاریر کو بڑی توجہ اور خاموشی سے سنا جانا چاہیئے کہ یہ ان کے لئے بے حد فائدہ بخش ہیں۔جناب پرنسپل صاحب نے سب کا شکر یہ ادا کیا۔66 امریکن چرچ کے وفد کی قادیان میں آمد ۱۴ را کتوبر ۱۹۶۹ء کو قادیان کی مقدس سرزمین نے پیشگوئی یــاتــون مــن كل فج عميق “ (ترجمہ: اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گی۔کا ایک نہایت ایمان افروز نظارہ دیکھا جبکہ امریکن یو نائیٹڈ پریس بائی ٹیرین چرچ ( The United Presbyterian Church in U۔S۔A) کے ۲۶ رافراد پر مشتمل ایک وفد قادیان کے مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے پہنچا۔یہ وفدا نہیں خواتین اور سات مردوں پر مش مشتمل تھا۔یہ سب افراد ریٹائر ڈ تھے اور چرچ میں گہری دلچپسی رکھنے والے مذہبی لوگ تھے۔جو سات کاروں پر مرکز احمدیت میں آئے تھے۔احمد یہ محلہ میں ان معزز مہمانوں کا اھلا و سهلا و مرحبا کے نعروں کے