تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 250
تاریخ احمدیت۔جلد 25 250 سال 1969ء کہ تربیت و ہدایت اور نصیحت اور مواعظت ان کی روحانی غذا تھی۔اس کے بغیر وہ رہ ہی نہیں سکتے تھے۔جب تک سرکاری ملازم رہے۔دفتر میں بیٹھے ہوں یا دورے پر ہوں۔برابر اپنے ملنے والوں کو دعوت الی اللہ کرتے رہتے تھے۔صحیح معنوں میں وعظ و تذکیر ان کا اوڑھنا بچھونا بن گیا تھا۔جس میں وہ وفات کے وقت تک منہمک رہے۔یہ اجمالی خاکہ محترم محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے نہیں بلکہ محترم پروفیسر عبدالسلام صاحب نے تحریر کیا۔صرف تعارفی الفاظ محترم محمد اسمعیل صاحب پانی پتی کے ہیں۔98 صدر مملکت کا اظہار تعزیت صدر مملکت اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل اے۔ایم بیٹی خان نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے نام ایک تعزیتی پیغام ارسال فرمایا۔آپ نے اپنے پیغام میں فرمایا: آپ کے والد کی وفات کے متعلق معلوم کر کے مجھے گہرا صدمہ ہوا۔براہ مہربانی میری طرف سے دلی تعزیت قبول فرما ئیں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو سکینت عطا کرے۔اور آپ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ملک غلام ربانی صاحب آف ٹورانٹو کینیڈا (وفات: ۲۵ / اپریل ۱۹۶۹ء) 99 آپ حضرت حکیم شیخ فضل حق صاحب بٹالوی کے داماد اور جناب عبدالجلیل صاحب عشرت لاہور کے ہم زلف تھے۔۱۹۵۴ء میں پاکستان سے ٹورانٹو تشریف لے گئے اور کینیڈا میں آباد البانیا، یوگوسلاویہ اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک کے مہاجرین کی اسلامی تعلیم کے انتظام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔آپ کی کوشش سے مسلمانوں میں خاصی بیداری پیدا ہوگئی جس کے نتیجہ میں یہاں پہلا اسلامک سنٹر قائم ہوا۔ابتدائی ایام میں کینیڈا ریڈیو نے آپ کی مختلف تقاریر نشر کیں۔نارتھ پارک لائبریری (North York Library) میں اسلام کے موضوع پر آپ کے متعد دیکچر ہوئے۔آپ ایک طرف خود تعلیم حاصل کرتے تھے۔دوسری طرف کینیڈا کے مسلمانوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی بے لوث خدمات کا صلہ آپ کو دینی و دنیوی عزت کے رنگ میں عطا فرمایا۔آپ جماعت احمد یہ ٹورانٹو کے نائب صدر تھے۔100