تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 241
تاریخ احمدیت۔جلد 25 241 سال 1969ء میں پورے خاندان کو جماعت احمدیہ سے ہر دم وابستہ رہنے کی تاکید کی اور کہا کہ اس بات میں ذرا بھر شبہ نہیں کہ روئے زمین پر صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس میں شامل ہو کر انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کر سکتا ہے۔وصیت میں آپ نے اپنے مکانوں میں سے ایک مکان جماعت احمدیہ کے نام وقف کیا۔84 راجہ محمود امجد خان صاحب جنجوعه (سرگودھا) (وفات: ۹فروری۱۹۶۹ء) آپ میجر جنرل افتخار جنجوعہ ہلال جرأت کے والد تھے۔حضرت ڈاکٹر بھائی محمود احمد صاحب کے چچازاد بھائی کے فرزند تھے۔بہت مخیر اور فیاض ہونے کے علاوہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔آبائی وطن ڈنگہ ضلع گجرات تھا۔شمس الدین خان صاحب امیر جماعت پشاور وڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن (وفات: ۱۴فروری ۱۹۶۹ء) آپ پیر کوٹھا شریف سیدا میر احمد صاحب کے مرید خاص خلیفہ حافظ حاجی نور محمد صاحب نقشبندی کے فرزند اور مولوی مسیح الدین صاحب پشاور کے برادر اصغر تھے۔۷ ستمبر ۱۹۲۰ء کو داخل احمدیت ہوئے اور سلسلہ کے اخلاص و فدائیت میں جلد جلد ترقی کرنے لگے اور بالخصوص قیام پاکستان کے بعد پشاور و ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے امیر کی حیثیت سے قابل قدر خدمات انجام دیں۔آپ سلسلہ احمدیہ کے ایک غیور اور جانثار سپاہی تھے۔صاحب رؤیا و کشف اور فدائی بزرگ تھے۔ان کے دل میں زبر دست تڑپ تھی کہ احمدی نوجوان دینی شعائر کے پابند ہوں اور اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائیں۔اپنی عظیم الشان خدمات کے باعث حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی منظوری سے بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ کرام میں سپردخاک کئے گئے۔آپ کی اہلیہ امتہ العزیز بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں کہ آپ جب سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تو آپ کے دل میں خیال گذرا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے غیر تشریعی نبی امتی نہیں گذرا۔اس لئے حضور کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا ہے۔تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ حضور فرماتے ہیں میں خدا تعالیٰ کا پیارا نبی ہوں۔86 87۔