تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 231
تاریخ احمدیت۔جلد 25 231 سال 1969ء صاحب تاجر کتب قادیان) کے صفحہ ۴۲-۴۳ پر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے سٹاف کی فہرست کے نمبر ۸ پر آپ کا نام لکھا ہے۔یہ کتاب پہلی اور آخری بار ۲۵ نومبر ۱۹۲۰ء کو شائع ہوئی )۔آپ کی عرصہ دراز ملازمت میں ہزاروں طالب علم آپ سے علم حاصل کر کے اس وقت اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں آپ نے تمام عمر اپنی ڈیوٹی کو محنت سے سرانجام دیا۔۱۹۴۶ء میں جس وقت آپ سکول سے ریٹائر ہوئے اس وقت سکول کے ہیڈ ماسٹر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے جو حضرت والد صاحب کے بہت عزیز شاگردوں میں سے تھے۔اس موقع پر الوداعی ایڈریس حضرت شاہ صاحب نے پیش کیا جس میں انہوں نے دلی جذبات اور نمناک آنکھوں سے الوداع کہتے ہوئے فرمایا۔آج میں اپنے ایک ایسے بزرگ استاد کو الوداع کہہ رہا ہوں جن کی جدائی کی وجہ سے میں بہت تکلیف اور اپنے سکول میں بہت بڑا خلا محسوس کر رہا ہوں۔حضرت شاہ صاحب جب بھی سکول کی کلاسوں کے معاینہ کرنے جاتے جب والد صاحب کی کلاس کے پاس سے گذرتے تو اپنی آنکھوں پر رومال رکھ کر گذرتے اور فرمایا کرتے کہ میں اپنے شفیق استاد کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔پھر فرماتے میں ان کے کام کو کس طرح چیک کروں جبکہ میں ذاتی طور پر بچپن سے جانتا ہوں کہ آپ نے کبھی اپنا وقت ضائع نہیں کیا۔بچوں کو بہت محنت سے پڑھاتے ہیں ان سے محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے ہیں۔پاکستان بننے کے بعد فوری طور پر جس گاؤں میں رہائش اختیار کی وہاں مسجد تعمیر کروائی جس میں سب احمدی دوست نماز ادا کرتے تھے۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول نے جو وصیت حضرت نواب محمد علی خانصاحب کی کوٹھی پر تحریر فرمائی تھی اس کا ذکر بھی بار بار کرتے۔جب حضور نے مولوی محمد علی صاحب سے وہ وصیت پڑھوا کر سنی تو اس وقت آپ بھی اس مجلس میں موجود تھے اور پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اولین فرصت میں حضرت خلیفتہ اُسیح الثانی کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ بہت مخلص، سادہ مزاج اور دعا گو بزرگ تھے۔خود بھی باقاعدگی سے نماز باجماعت ادا کرتے اور دوسروں کو بھی نماز با جماعت کی تلقین فرماتے۔ایک لمبا عرصہ تک اپنے گاؤں (کھارا ) میں صدر حلقہ رہے اور ہجرت کے بعد نائب امیر حلقہ اور پھر امیر حلقہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔مرکز سے آنے والے بزرگوں کا بڑا احترام کرتے اور اپنی اولا دکو بار بار یہی نصیحت فرماتے کہ "مرکز کے ساتھ مضبوط تعلق رکھنا۔مرکزی نقطہ خلافت ہے سب سے بڑھ کر عزت و احترام خلیفہ اسیح کا رکھنا باقی سب ان کے تابع ہیں۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور (حضرت) صاحبزادہ 74