تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 218
تاریخ احمدیت۔جلد 25 218 سال 1969ء شفاخانہ نور بھی مرکز منتقل ہو گیا اور آپ بھی ربوہ میں شفا خانہ میں خدمات بجالاتے رہے اور کچھ عرصہ بعد پیرانہ سالی اور علالت کی وجہ سے شفا خانہ سے آپ ریٹائر ہو گئے اور گھر ضلع گوجرانوالہ میں اپنے خاندان کے افراد کے پاس مقیم ہو گئے اور تا وفات وہ ہیں مقیم رہے۔۔۔محترم صوفی صاحب مرحوم کو قادیان کے ساتھ بے حد انس و محبت تھی اور قادیان کو بہت یاد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں جب رات کو سوتا ہوں تو میں قادیان میں ہوتا ہوں لیکن جب اٹھتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہی لگکھڑ منڈی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان سے انہیں کس قدر اور بے انتہا محبت تھی“۔اولاد 43 آپ کی اہلیہ کا نام سکینہ بیگم صاحبہ تھا۔آپ سے مندرجہ ذیل اولا د ہوئی۔نصر اللہ خاں صاحب۔فتح اللہ خاں صاحب ( گکھڑ منڈی )۔ظفر اللہ خاں صاحب (نصرت آبا در بوہ )۔نصرت اللہ عابدہ صاحبہ اہلیہ انور حسین صاحب اوورسئیر محکمہ انہار لا ہور۔فرحت اللہ صادقہ صاحبہ اہلیہ محمد احمد خاں صاحب ملتان۔عصمت اللہ راشدہ صاحبہ اہلیہ عبید الرحمن صاحب لاہور۔مکرم مدثر احمد خاں صاحب واقف زندگی دفتر وکالت مال اول تحریک جدید ربوہ آپ کے پوتے ہیں۔) حضرت بابوعبدالحمید صاحب آؤٹ آفیسر ریلوے 47 ولادت ۱۸۸۴ء بیعت : اگست ۱۹۰۳ء وفات : ۲۶/۲۵ ستمبر ۱۹۶۹ء آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے بھائی حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب سیالکوٹی والد ماجد چوہدری شبیر احمد صاحب بی اے واقف زندگی سابق وکیل المال اول تحریک جدید ربوہ ) کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔محترم سردار صاحب نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت مارچ ۱۹۰۶ء میں قادیان دارالامان میں کی۔آپ شروع میں کچھ عرصہ پٹیالہ میں ملازم رہے اور پھر تبادلہ کے بعد دسمبر ۱۹۱۰ء میں لاہور میں تشریف لے آئے۔خلافت اُولیٰ کے بابرکت دور میں حضرت خلیفہ امسیح الاول نے آپ کو صدر انجمن احمد یہ قادیان کا آنریری آڈیٹر مقرر فرمایا۔اور اسی زمانہ میں آپ نے حضور کی اجازت سے خطبات نور کے دو حصے (اشاعت طبع