تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 210 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 210

تاریخ احمدیت۔جلد 25 210 سال 1969ء کتابت اور خوشنویسی کے ذریعہ سے حاصل ہوئی اور اس راہ سے آپ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔بہت سے کا تب ان کے شاگرد ہیں۔قادیان میں محلہ دار العلوم میں محترم منشی صاحب کا مکان تھا اور مجھے بھی ۴۰-۱۹۳۹ء میں ان کے قرب میں ہی بیت العطاء کے نام سے اپنا مکان بنانے کی توفیق ملی تھی۔سالہا سال ہم پڑوسی کے طور پر رہے ہیں۔پھر قادیان سے نکلنے والے رسالہ ”الفرقان“ کی کتابت بھی بہت دفعہ حضرت منشی صاحب کرتے تھے اور میں اس رسالہ کا ایڈیٹر تھا۔مجھے حضرت منشی صاحب سے ایک رشتہ داری کا بھی تعلق ہے ان کے بڑے لڑکے مکرم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب میرے ہم زلف حضرت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم سابق وکیل المال کے داماد ہیں۔مجھے محترم منشی صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ہجرت کے بعد ربوہ میں بھی ان کا اور میرا مکان ایک ہی محلہ یعنی دارالرحمت وسطی میں ہے۔حضرت منشی صاحب کی زندگی تقویٰ و پرہیز گاری کی زندگی تھی۔پنجوقتہ نمازیں بالالتزام مسجد میں ادا کرتے تھے اور جب تک ان کے لئے ممکن رہا وہ کتابت کے ذریعہ رزق حلال کماتے تھے اور اپنے بچوں میں سے کسی پر کسی طرح کا بار نہ تھے۔اپنی صحت کا بھی اہتمام کرتے تھے۔انہیں نماز فجر کے بعد خاص طور پر سیر کی عادت تھی اور بسا اوقات آتے یا جاتے ہوئے مجھے ان سے ملنے کا موقع ملتا رہتا تھا۔نہایت بشاش چہرے سے ملتے اور دعا کرتے اور دعائیں دیتے۔جب زیادہ کمزور ہو گئے تو اپنے کسی بیٹے یا پوتے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سیر کے لئے نکلتے۔وفات سے تھوڑا ہی عرصہ پیشتر ایک دن اسی حالت میں از راہ محبت آہستہ آہستہ میرے ساتھ مکان تک آئے اور بیت العطاء پر نیا بالا خانہ دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعا فرمائی۔حضرت منشی صاحب کے دل میں دین کے لئے قربانی کا خاص جذبہ تھا جس کا ظاہری ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کے بڑے فرزند مکرم مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب واقف زندگی ہیں اور سلسلہ کی مسلسل خدمات بجالا رہے ہیں۔ان کے دوسرے فرزند مکرم مولوی سراج الحق صاحب درویشان قادیان میں ہیں اور اب بطور مبلغ بھارت میں خدمت اسلام بجالا رہے ہیں۔حضرت منشی صاحب کو اپنے بچوں اور بچیوں کی نیک تربیت کا ہمیشہ خیال رہتا تھا اس کے لئے وہ دعا ئیں بھی بکثرت کرتے تھے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت منشی عبدالحق صاحب ایک بزرگ انسان تھے۔صاحب رؤیا تھے اور سلسلہ کے لئے مقدور بھر قربانی کرنے والے تھے۔31-