تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 185 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 185

تاریخ احمدیت۔جلد 25 185 سال 1969ء جلسہ سالانہ اور پاکستانی ذرائع ابلاغ جلسہ سالانہ ۱۹۶۹ء کے بارے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کا طرز عمل افسوسناک رہا۔چنانچہ روز نامہ مشرق‘ نے لاہور ایڈیشن کے ۳۱ دسمبر ۱۹۲۹ء کے شمارہ میں ” جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ ختم ہو گیا“ کے زیر عنوان ایک مختصر سی خبر شائع کی جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی طرف ایسی بات منسوب کی جو آپ نے ہرگز نہیں فرمائی تھی۔خبر یہ تھی :۔امر پر ر بوه ۳۰ دسمبر ( نامہ نگار ) جماعت احمدیہ کا ۷۸ واں سالانہ جلسہ گزشتہ روز ختم ہو گیا۔آخری اجلاس سے جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے خطاب کیا۔انہوں نے انسانی فلاح و بہبود کے لئے جد و جہد کرنے پر زوردیا اور کہا کہ وہ مسٹر بھٹو کے علاوہ دیگر سیاستدانوں سے بھی مل چکے ہیں“۔اخبار الفضل ربوہ ۳ جنوری ۱۹۷۰ء نے اس غلط خبر پر احتجاج کرتے ہوئے لکھا کہ:۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے جلسہ سالانہ کے آخری اجلاس ہی نہیں بلکہ جلسہ کے دوران اپنی کسی بھی تقریر میں اس امر کا قطعاً کوئی ذکر نہیں فرمایا کہ آپ مسٹر بھٹو یا کسی اور سیاستدان سے ملے ہیں۔جلسہ میں شریک ایک لاکھ کے قریب افراد خوب جانتے ہیں اور اس امر پر گواہ ہیں کہ آپ نے اپنی کسی تقریر میں سرے سے اس بات کا اشارہ بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔لہذا ہم اس غلط بیانی کی پُر زور تردید کرتے ہیں اور اخبارات کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ صحافت کو دیانتدارانہ بنیادوں پر چلائیں اور صحافتی آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھیں“۔جہاں تک ریڈیو پاکستان کا تعلق ہے اس کا رویہ بھی سراسر جانبدارانہ تھا جیسا کہ ایک غیر از جماعت دانشور اور صاحب قلم دوست نے لکھا:۔چنددنوں کی بات ہے مجھے اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ ان کے مرکز ربوہ میں ان کا تین روزہ اجتماع سننے کا اتفاق ہوا جس سے چار دفعہ امام جماعت نے خطاب کیا۔یہ چاروں خطاب دعائیہ اور فضائل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے معمور تھے جن کا ہر فقرہ ایمان افروز اور روح آفریں تھا۔اس کے علاوہ بیشتر اکابر نے بھی ایسے موضوعات پر تقریریں کیں جو آج وطن عزیز میں زیر بحث ہیں لیکن جب صوتی پروگرام میں ریڈیو لاہور سے اس اجتماع کی رپورٹ سنی تو ریڈیائی کارکنوں کی فنکاری کی داد دینا پڑی۔کیونکہ یہ رپورٹ اجتماع سے متعلق بھی تھی اور اس میں اجتماع کا کوئی تذکرہ بھی