تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 171 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 171

تاریخ احمدیت۔جلد 25 171 سال 1969ء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات)، گیانی عبداللطیف صاحب (حضرت گورونانک کی عظیم شخصیت اور اسلام ) ، مولانا محمد حفیظ صاحب فاضل بقا پوری ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ وایڈیٹر بدر قادیان ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انذاری و تبشیری پیشگوئیاں ، ملک صلاح الدین صاحب ایم اے مؤلف اصحاب احمد (ذکر حبیب ) ، مولانا بشیر احمد صاحب فاضل (امام وقت کی ضرورت اور ان کے کام) اور (موجودہ زمانہ کے بارہ میں اسلام کی پیشگوئیاں)، چوہدری مبارک علی صاحب ناظر بیت المال ( آمد ) ( جماعت احمد یہ مالی قربانیوں کے میدان میں)، جناب ڈاکٹر سید اختر احمد صاحب اور بینوی ڈی لٹ پٹنہ ( خالق و مخلوق کا رشتہ ) ، مولانا شریف احمد صاحب امینی ( مسیح ناصری علیہ السلام کی ہجرت اور قبر ہندوستان میں ) ، مولوی عبدالحق صاحب فضل مبلغ مظفر پور (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ، صدر جلسه محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد (صدارتی خطاب ) - 155 " مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری ایڈیٹر اخبار بدر کے قلم سے اس مقدس روحانی اجتماع کی مزید تفصیلات درج ذیل کی جاتی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔دونوں ملکوں کی منظوری سے امسال ے ے پاکستانی احباب جماعت کا ایک قافلہ بتاریخ ۱۵ دسمبر حسینی والا بارڈر سے بھارت وارد ہوا اور فیروز پور سے بذریعہ ریل روانہ ہوکر اگلے روز ۱۶ دسمبر کو۵ بجے شام قادیان پہنچا۔چھ روز قیام کرنے کے بعد ۲۱ دسمبر کو رات آٹھ بجے کی گاڑی سے واپسی کے لئے روانہ ہوا اور ۲۲ دسمبر کو بارڈر عبور کر گیا۔ان زائرین میں بیشتر ایسے افراد تھے جنہیں یا تو زندگی میں پہلی بار اور یا تقسیم ملک کے بعد پہلی مرتبہ مرکز سلسلہ قادیان کے مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔چنانچہ گنتی کے ان ایام کو انہوں نے خصوصی دعاؤں اور ذکر الہی میں گزارا۔اور اپنے اس سفر کو اپنی غیر معمولی سعادت جانا۔اکناف عالم سے آئے ہوئے احباب جماعت مرکز سلسلہ میں اسی طرح گھل مل جاتے ہیں اور قادیان کی محبت سے اپنے تئیں اس طرح محسوس کرتے ہیں کہ گویا اپنے ہی گھروں میں اپنے ہی اعزہ و اقرباء کے پاس ہیں۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے اغراض و مقاصد میں سے احباب کے باہمی تو ڑ دو تعارف کا جو زریں موقعہ میسر آتا ہے اس سے امسال بھی احباب نے خوب فائدہ اٹھایا۔باہم مل کر روحانی باتیں کر کے، خدائی نشانات کا مشاہدہ کر کے اپنے ایمانوں میں تازگی حاصل کی اور روحوں کے صیقل