تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 170
تاریخ احمدیت۔جلد 25 170 سال 1969ء قادیان میں آکر اُسے تین دن تک اپنے سجدوں ، عبادات و از کار الہی اور درود شریف سے معمور کیا اور بيت الدعاء بيت الذکر، بیت الفکر، مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ وغیرہ مقامات مقدسہ سے خوب استفادہ کیا اور حسب استطاعت علم و عرفان کی جھولیاں بھر کر اپنے وطنوں کو واپس ہوئے۔اندرونِ ملک سے جلسہ کی خاطر مرکز سلسلہ میں دور دراز علاقوں سے سفر اختیار کر کے آنے والوں میں آندھراپردیش، میسور سٹیٹ، جموں و کشمیر، پونچھ، کیرالہ بمبئی، یوپی، بہار، بنگال، اڑیسہ اور دہلی کے علاقوں سے خاصی تعداد میں مخلص احباب شریک ہوئے۔اس اللہی اجتماع سے مستفیض ہونے کے لئے ایک سوئس احمدی مکرم رفیق احمد صاحب چنین (Mr۔Rafique Channen) بھی تشریف لائے۔آپ ۱۹۶۰ء میں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو کر حضرت مسیح محمدی ﷺ کے شیدائیوں میں شامل ہوئے۔اسی طرح جزیرہ سیلون سے بھی ایک بزرگ مختلف سفری صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے شریک جلسہ ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس جلسہ کے لئے جو پیغام ارسال فرمایا اس میں سب سے پہلے درویشان قادیان اور پھر بیرونی جماعتوں سے آنے والے احباب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کے گرانقدر تحفہ سے نوازا۔اس پیغام کے ذریعہ حضور نے احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ آجکل ساری دنیا کے اندر جو حالات پیدا ہو چکے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بہت ہی خطرے میں ہے۔سب دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب پر اپنا فضل نازل فرمائے۔یہ پیغام حضرت صوفی غلام محمد صاحب امیر قافلہ نے پڑھا۔حضور نے جلسہ سے قبل ایک برقی پیغام بھی دیا تھا جو مولوی شریف احمد صاحب امینی مبلغ بنگال واڑیسہ نے سنایا۔جلسہ کے فاضل مقررین جنہوں نے ٹھوس، پُر مغز اور نہایت معلومات افروز تقاریر فرمائیں۔مولوی محمد کریم الدین صاحب شاہد استاذ مدرسہ احمدیہ قادیان ( حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدات ) ، حضرت مولوی عبدالرحمان صاحب فاضل امیر مقامی (افتتاحی تقریر نیز تقریر بعنوان ذکر حبیب)، مولوی شریف احمد صاحب امینی ( تبلیغ اور جماعت احمدیہ ) ، رفیق چنن صاحب میں نے احمدیت کو کیوں قبول کیا ) ( یہ تقریر انگریزی زبان میں تھی جس کا اردو تر جمہ میر احمد صادق صاحب ایم۔اے آف حیدر آباد دکن نے سنایا)، صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب (اسلام مجھے کیوں پیارا ہے ) ، مولوی محمد عمر صاحب مبلغ بمبئی ( شہری زندگی کو پُر امن بنانے کے لئے حضرت رسول کریم