تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 4 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 4

تاریخ احمدیت۔جلد 25 4 سال 1969ء پروفیسر نصیر احمد خان صاحب کی زیر قیادت روانہ ہوا۔اس قافلہ میں وہ مجاہدین احمدیت اور علم برداران تو حید بھی تھے جنہیں بیرونی ممالک میں تثلیث و دہریت کے مراکز میں اللہ کا پیغام پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ان میں مولوی روشن دین صاحب، مولوی چوہدری عبدالخالق صاحب، مولوی قاضی نعیم الدین صاحب، مولوی رشید احمد سرور صاحب، مولوی منیر احمد عارف صاحب، نورالحق صاحب تنویر، مولوی بشیر احمد صاحب رفیق اور حافظ قدرت اللہ صاحب شامل تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جملہ افراد قافلہ کو شرف مصافحہ بخشا۔اس قافلہ نے گنڈا سنگھ بارڈر سے سرحد عبور کی اور فیروز پور سے بذریعہ ٹرین جالندھر اور امرتسر سے ہوتا ہوا ۵ جنوری کو صبح بخیر و عافیت قادیان پہنچ گیا۔ریلوے اسٹیشن قادیان میں صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور محلہ احمدیہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب نے استقبال کیا۔وصال حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ولادت : ۱۸۷۷ء بیعت : ۱۸۹۲ء زیارت: ۱۸۹۶ء وفات : ۸جنوری ۱۹۶۹ء حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری سلسلہ احمدیہ کے مستجاب الدعوات بزرگ، نامور عالم و فاضل، زبان اور بیان کے مسلم الثبوت استاد اور بلند پایہ اور قادرالکلام شاعر تھے۔تاریخ پیدائش اردو کے مایہ ناز شاعر و ادیب، صحافی اور متعدد علمی وتحقیقی کتابوں کے مصنف مکرم محمد یامین صاحب ( پیام شاہجہانپوری) تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری اور میرے والد محترم خان محمد امین خان صاحب مرحوم ہم مکتب تھے۔حضرت حافظ صاحب سینیئر تھے اور والد صاحب جونیئر۔حضرت حافظ صاحب کے والد محترم حضرت سید علی میاں صاحب والد مرحوم کے شفیق بزرگ تھے۔خود انہوں نے والد صاحب سے بیان کیا کہ ”میں نے مختار کا نام تاریخی رکھا ہے۔“ یعنی ابجد کے قاعدے کے مطابق اگر ان کے نام کے اعداد جمع کئے جائیں تو ان کے حاصل جمع سے حضرت حافظ صاحب کی پیدائش کا سنہ نکل آتا ہے۔مختار احمد کے اعداد کا مجموعہ ۱۲۹۴ھ (۱۸۷۷ء) بنتا ہے۔ان کی وفات ۸ جنوری ۱۹۶۹ء مطابق ۱۸ اشوال ۱۳۸۸ھ میں ہوئی اور ۹۲ سال کی عمر پائی۔