تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 152
تاریخ احمدیت۔جلد 25 152 سال 1969ء جنہوں نے اس کا حسن نہیں دیکھایا جو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے قادرانہ تصرفات کا علم حاصل نہیں کیا۔ان کے ذہنوں پر ان کے اخلاق پر اور ان کی روحانیت پر گرد جم رہی ہے اور ایک قسم کا زنگ سا لگ رہا ہے۔ساری جماعت کو فکر کرنی چاہیے اور اس امر کا عزم کرنا چاہیے کہ ہم نے ایسے پیدائشی احمدیوں کی راہنمائی کر کے انہیں سمجھا کر اور سہارا دے کر نور کے اسی ہالہ میں واپس لے آنا ہے۔سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 138 اسی سال لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا بارہواں سالانہ اجتماع ۱۷، ۱۸، ۱۹ را کتوبر ۱۹۶۹ء کو منعقد ہوا۔اس اجتماع میں مختلف مقامات کی ۹۰ مجالس کی ۵۹۰ نمائندگان شامل ہوئیں۔مجموعی حاضری کم و بیش ۶۰۰۰ رہی۔10 اس اجتماع کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کی مجلس شوری نے آئندہ پانچ سال کے لیے لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی صدر کا انتخاب بھی کیا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر بنیں۔تینوں دن پروگرام کے مطابق کارروائی جاری رہی۔مختلف تعلیمی ، دینی اور علمی مقابلہ جات بھی ہوئے اور اہم 140 موضوعات پر تقاریر بھی ہوئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا خطاب سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۱۸ اکتو بر کو اپنے بصیرت افروز خطاب میں احمدی خواتین کو نصیحت فرمائی کہ انہیں اسلام کے غلبہ کے عظیم مجاہدہ میں مردوں کے دوش بدوش قربانیاں پیش کرنی چاہئیں۔اس سلسلہ میں حضور نے سورۂ آل عمران آیت ۱۹۶، سوره نساء آیت ۱۲۵ اور سورہ انحل آیت ۹۸ کی لطیف تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین بشارتیں دی ہیں۔ایک یہ کہ تمہارے اعمال ضائع نہیں ہوں گے۔دوسرے یہ کہ تمہیں اس دنیوی جنت اور اس اُخروی جنت دونوں کا وارث بنایا جائے گا۔تیسرے یہ کہ تمہیں ایک پاک زندگی عطا ہوگی اور دنیا اُسے حیرت سے دیکھے گی کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس قسم کی پاک زندگی گزار رہے ہیں۔یہ تین بشارتیں ہیں ان تین بشارتوں میں مرد کو عورت پر ترجیح نہیں دی گئی بلکہ ہر دو کو ایک مقام دیا گیا ہے۔جس طرح مردوں کے اعمال ضائع نہیں ہوں گے اسی طرح عورتوں کے اعمال بھی ضائع نہیں ہوں گے۔جس طرح مرد جنت کے وارث بنیں گے، عورتیں بھی جنت کی وارث بنیں گی۔جس طرح مردوں کو حیاتِ طیبہ ملے گی عورتوں کو بھی حیات طیبہ ملے گی اور ساتھ یہ کہہ دیا کہ جس طرح مردوں کو اعمالِ صالحہ کرنے