تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 141
تاریخ احمدیت۔جلد 25 141 سال 1969ء کے بیتابی سے منتظر تھے۔حضور کار سے باہر تشریف لائے تو چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ لا ہور اور دوسرے احباب نے حضور کا نہایت گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔۹ را کتوبر کو حضور نے اراکین مجلس عاملہ جماعت احمد یہ لا ہور کو اجتماعی ملاقات کا شرف بخشا۔اس موقع پر حضور نے شعبہ اصلاح و ارشاد کے سلسلہ میں فرمایا یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو مؤثر رنگ میں پیش کرنے کے لئے قرآن کریم اور دیگر کتب اسلامیہ پر مشتمل دلائل و براہین کو ذریعہ بنانا پڑتا ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے نقطۂ نظر کے اظہار کے اس طریق کار میں مزید وسعت پیدا کریں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محسن انسانیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کی ظلیت میں آپ کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی تعمیل میں غریب عوام سے بالخصوص خادمانہ اور ہمدردانہ تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔آج کا غریب طبقہ ہر طرف سے دھتکارا ہوا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا جو انسانی شرف قائم کیا ہے اس سے بھی وہ محروم ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم بلا لحاظ رنگ و نسل یا مذہب وملت ہر غریب و بیکس کی عزت واحترام کریں اور اس سے نہایت ہمدردی اور پیار کا سلوک روارکھیں۔حضور نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا احمدیوں کو اللہ تعالیٰ نے حقائق سے بہرہ ور فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور اپنے فضل سے ان کی مشکلیں آسان فرماتا ہے۔چنانچہ ہر احمدی بقدر استطاعت اللہ تعالیٰ کے فیوض اور اس کے انوار کو کم و بیش اپنی زندگی میں جلوہ گر پاتا ہے۔اس شرف میں اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی شریک کرنا انسانی فرض ہے۔یہ بھی دراصل ایک غربت ہی ہے کہ وہ خدائے بزرگ و برتر کی ذات وصفات کے علم و عرفان سے بے بہرہ ہیں۔مالدار لوگ تو دنیا کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ویسے ان کو بھی اس سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اصل مسئلہ اس وقت غریب و بے سہارا لوگوں کی غربت کا علاج اور ان کے دکھ درد کا مداوا اور ان کے حقوق کی حفاظت ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ مجسم اخلاق بن جائیں۔انسانی شرف کو قائم کرنے کی غرض سے حسنِ اخلاق اور غریبوں اور بے بسوں کی ضروریات کو حتی المقدور پورا کرنے کے لئے یہ دوہرے جلوے دکھانے میں ہر وقت کوشاں رہے کیونکہ خوش خلقی ، اچھا سلوک اور نیک نمونہ ہی علاج کا بہترین طریق ہے۔