تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 140
تاریخ احمدیت۔جلد 25 140 سال 1969ء نتیجہ میں جن لوگوں نے آپ کی روحانی قیادت کو تسلیم کیا ان سب کو آپ نے ایک جماعت کی لڑی میں پرو دیا اور اس طرح مومنوں کی ایک الگ جماعت بن گئی۔آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجہ میں آپ اور آپ کی جماعت پر پابندیاں بھی لگا دی گئیں۔جب ظلم و ستم کی انتہا ہوئی تو آپ نے اپنی جماعت کو ہجرت کرنے کا ارشاد فرمایا چنانچہ سب گوڈو کی طرف ہجرت کر گئے۔گوڈو میں بھی دشمنوں نے متعدد حملے کیے اور آخر ۱۸۰۸ء میں گو بیر کا سلطان مارا گیا اور دارالخلافہ حضرت عثمان فوڈیو کی جماعت کے ہاتھ آیا۔اس فتح کے بعد حالات سرعت کے ساتھ بدلنے لگے اور لوگوں کو آپ کی جماعت کی طاقت کا اندازہ ہو گیا۔کہا جاتا ہے کہ باوجود اشتعال انگیزی کے حضرت عثمان ڈان فوڈیو نے خود جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا تھا البتہ جنگ کے دوران اپنی فوجوں کی راہنمائی ضرور کرتے تھے۔ان کے پیروکار انہیں امیر المومنین کے لقب سے یاد کرتے۔اپنوں اور غیروں کا بھی ان کے متعلق یہی تاثر تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ تمام مسلمان رسول اکرم ﷺ کے نقش قدم پر چلیں۔سوکوٹو کے سلطان کو آج بھی امیر المومنین کہا جاتا ہے اور سلطان ہمیشہ حضرت عثمان ڈان فوڈ یو 131 کے خاندان ہی سے منتخب کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا سفر لا ہور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا اس سال کا تیسرا سفرسفر لاہور تھا۔حضور ۸/اکتوبر ۱۹۶۹ء کو لا ہور تشریف لے گئے اور ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو واپس مرکز احمدیت ربوہ میں وارد ہوئے۔حضور نے محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو ربوہ میں امیر مقامی مقرر فرمایا۔کراچی کی طرح اس سفر میں بھی چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ نے پرائیویٹ سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔حضور کا قیام کوٹھی پام ویو ۵ ڈیوس روڈ میں تھا جہاں کوٹھی کے ملحقہ وسیع اور خوبصورت لان میں ایک طرف شامیانے کے نیچے نمازیں ادا کرنے کا انتظام تھا دوسری طرف زائرین کے لئے کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔حضور کی کار جو نہی کوٹھی کے اندر داخل ہوئی فضا اھلا و سهلا و مرحبا کی دلر با آوازوں سے گونج اٹھی۔پیارے امام کے اس والہانہ استقبال کا یہ منظر نہایت ہی پر کیف اور ایمان افروز تھا۔عشاق خلافت فرط عقیدت سے تقریباً ایک گھنٹہ سے دو رویہ قطار میں کھڑے اپنے مقدس آقا کی آمد