تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 138
تاریخ احمدیت۔جلد 25 138 سال 1969ء کا حکم ساری دنیا پر چلتا تھا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کئی نئے ممالک فتح ہو چکے تھے اور حضرت عمر کا حکم ان سب ممالک پر چلتا تھا۔روحانی اور دینی لحاظ سے بھی۔ان سب ممالک کے رہنے والوں کو آپ کا فتویٰ آپ کا حکم اور آپ کا فیصلہ ماننا پڑتا تھا۔اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتے تھے۔جو آپ کا حکم ،فتویٰ یا فیصلہ ماننے سے انکار کرتا تھا۔وہ باغی سمجھا جاتا تھا لیکن ان کے مقابلہ میں حضرت سید احمد صاحب شہید کولو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مجدد تھے۔انہوں نے کیا کوشش کی کہ نائیجیریا کے لوگ ان کی بات مانیں۔انہوں نے اس کے لئے کوئی کوشش نہیں کی اس لئے کہ صدی کے سر پر آنے والا مجد دساری دنیا کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے علاقہ اور زمانہ کے لئے ہوتا ہے۔پھر عثمان فو د یو کو لے لو وہ نائیجریا کے مجدد تھے۔ان کے پیدا ہونے سے پہلے ملک کے اخیار کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ عنقریب مجدد پیدا ہو گا۔آپ ان بشارتوں کے مطابق پیدا ہوئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی کہ شامیوں یا چینی مسلمانوں سے اپنی بات منوائیں۔اگر وہ شامیوں کی طرف سے بھی مجدد تھے تو انہوں نے ان سے اپنی بات نہ منوا کر خود خدا تعالیٰ کی بات کو نہ مانا جو درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف مجدد ہی نہ تھے بلکہ آپ مامورمن اللہ تھے۔آپ ظلی نبی تھے اور کمال ظلیت اور فنافی الرسول میں آپ اول نمبر پر تھے۔آپ کے نبوت کے دعوی کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت آپ کے پاس ہی رہی۔اور کمال ظلیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مشن بھی ساری دنیا کے لئے ہے جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ساری دنیا کے لئے تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حالات بھی ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہو رہی ہے۔مسلمانوں کو قرآن کریم کے صحیح معنی سے متعارف کرایا جا رہا ہے اور غیر مسلموں کو اسلام کے حسن اور احسان کے ذریعہ اسلام کی طرف لایا جارہا ہے اور اللہ ہی فضل کر رہا ہے کیونکہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی انسان کا کام نہیں۔یہ کام انسانی طاقت سے باہر ہے۔اس لئے ایک احمدی کو تو ہر وقت الحمد للہ رب العالمین کہتے رہنا چاہیے۔