تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 137 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 137

تاریخ احمدیت۔جلد 25 137 سال 1969ء بھی مجدد تھے۔انہوں نے اپنے زمانہ میں بڑی بے نفسی سے اسلام کی اشاعت کے لئے کوشش کی ہے۔آپ صاحب کشوف ورؤیا اور صاحب الہام تھے۔اس زمانہ میں مثلاً ہمارے مبلغ ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ہمارے کئی مبلغین ساری عمر افریقہ میں رہے ہیں اور بعض نے تو وہیں اپنی جان بھی دے دی ہے۔یہ مبلغ بھی تو آخر تجدید دین ہی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں سینکڑوں ہزاروں مجدد ہر وقت موجود رہتے ہیں۔بہر حال یہ بڑا غلط تخیل ہے جو اس وقت بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہو گیا ہے کہ اس وقت کوئی مجدد نہیں اور اس شیطانی خیال کو بڑی کوشش سے پھیلایا جا رہا ہے حالانکہ بڑی عجیب بات یہ ہے کہ خلافت راشدہ تو موجود ہے جو مجددوں کی سردار ہے مگر مجدد کوئی نہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ سپہ سالار موجود ہے لیکن فوج موجود نہیں۔صحابہ جنہوں نے اسلام کی اشاعت کی وہ بھی مجدد تھے۔دراصل بات یہ ہے کہ کوئی صدی بھی مجددین سے خالی نہیں رہی۔ہر صدی کے شروع میں بھی مجد در ہے ہیں ، وسط میں بھی مجد در ہے ہیں اور آخر میں بھی مجدد ر ہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسلام پر انتہائی تنزل کا زمانہ تھا۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے مقربین اسلام میں بحر ذخار کی طرح موجود رہے ہیں گویا وہ تنزل کا زمانہ بھی نسبتی تنزل کا زمانہ تھا۔یہ مقربین اپنی اپنی جگہ چھوٹی چھوٹی شمعیں جلائے بیٹھے تھے۔دیکھو خلافتِ راشدہ کے سلسلہ کے خلفاء امام اور مجددین بھی تھے۔صدی کے سر پر جو مجد دین آئے ان میں اور خلفائے راشدین میں نمایاں فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حکم ساری امت پر چلتا تھا لیکن صدی کے سر پر آنے والے مجددین میں سے کسی ایک کا حکم بھی ساری امت پر نہیں چلا بلکہ ان کا حکم اپنے اپنے زمانہ اور اپنے اپنے علاقہ کے لوگوں پر چلا۔وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح محدود علاقہ کے لئے تھے۔اور پھر وہ محدود زمانہ کے لئے تھے لیکن حضرت ابو بکر