تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 123
تاریخ احمدیت۔جلد 25 123 سال 1969ء کترہ پر ایک سانس بھی نہیں لیا ، قدم رکھ کر واپس آگئے۔اس سے قرآن کریم کی ابدی صداقتوں پر تو کوئی حرف نہیں آتا۔بیشک یہ ایک کارنامہ ہے اور بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس کو معمولی سمجھنا غلطی ہے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنی دینی اور دماغی قوت عطا کی ہے کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو صحیح رنگ میں استعمال کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔اس پر معارف خطبہ کے آخر میں حضور نے پر شوکت انداز میں فرمایا: " آج ہم تمام سائنسدانوں کو بڑے دھڑتے سے یہ چیلنج دیتے ہیں کہ تم ان زمینی خصوصیات اور ان ارضی لوازمات کے بغیر کسی دوسرے کرہ پر رہ کر تو دکھاؤ۔تم تو انسان کا ایک ایسا پھیپھڑا تک نہیں بنا سکتے جو اس زمینی ہوا کا محتاج نہ ہو۔تم تو ایسا انتظام بھی نہیں کر سکتے کہ پانی کے بغیر انسانی زندگی ممکن ہو۔تم تو ایک ایسا نظام بھی نہیں چلا سکتے کہ جس سے متوازن غذا کے بغیر انسانی صحت کا قائم رکھنا ممکن ہو“۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ تسخیر کائنات کے اس عظیم الشان کارنامہ سے بارہ سال قبل دسمبر ۱۹۵۷ء میں سید نا حضرت مصلح موعود نے آیت وَ إِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ (الانشقاق: آیت۴) کی تفسیر میں لکھا: 118- یعنی اس زمانہ میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ بہت سے گرے جو بظاہر آسمان کے ساتھ وابستہ نظر آتے ہیں وہ زمین کا حصہ ہیں جیسے چاند اور مریخ وغیرہ یہ سائنس کا انکشاف اس زمانہ میں ہوا ہے پہلے نہیں ہوا تھا بلکہ مزید بات یہ ہے کہ ان کتوں کو زمین کا حصہ سمجھ کر بعض لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ راکٹ کے ذریعہ سے ان تک پہنچ جائیں یا ان کو بھی رہائش کے لحاظ سے زمین کا ہی ایک حصہ ثابت کر دیں۔اگر یہ ہو جائے یا بعض لحاظ سے چاند اور دوسرے کروں سے ایسے فائدے اٹھائے جاسکیں جس سے زمین متمتع ہو تو اس کا مفہوم یہی ہو گا کہ زمین پھیل گئی ہے۔سورہ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات حفظ کرنے کی بابرکت تحریک 119 جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۲ ستمبر ۱۹۶۹ء کو احد یہ ہال کراچی میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے