تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 118 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 118

تاریخ احمدیت۔جلد 25 118 سال 1969ء کے مایہ ناز جرنیل تھے۔ستمبر ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں چھمب جوڑیاں کے محاذ پر انہوں نے دشمن کے منہ پھیر دیے تھے۔آپ کی کمان میں پاکستان کے جیالے فوجیوں نے اپنے سے پانچ گنا زیادہ تعداد کے دشمنوں کو عبرتناک شکست دی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین مرحوم از میر میں صنعتی میلہ دیکھنے جارہے تھے جن میں پاکستانی سٹال بھی لگا ہوا تھا۔آپ کے ہمراہ آپ کی اہلیہ بھی تھیں کہ کار حادثہ کا شکار ہوگئی جس سے لیفٹینٹ جنرل اختر حسین اور ان کی اہلیہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔اس حادثہ میں ترکی میں پاکستان کے کمرشل اتاشی مسٹر محمد اسلم کے دو بیٹے اور کار ڈرائیور بھی ہلاک ہو گئے۔۔اسی اخبار نے ۲۸ اگست کی اشاعت میں لکھا۔66 لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیا گیا“ نماز جنازہ میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔“ ربوہ ۲۷ /اگست :۔ملک کے نامور فوجی سپوت اور ۱۹۶۵ء کی جنگ کے قابل فخر ہیر ولیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک اور ان کی اہلیہ کو گذشتہ شام یہاں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ شہداء کے قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔جنرل مرحوم اور ان کی اہلیہ ۲۲ اگست کو ترکی میں موٹر کار کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے تھے۔جنرل اختر حسین ملک اور ان کی اہلیہ کی میت گذشتہ روز چکلالہ کے ہوائی اڈہ سے فوج کے ایک خصوصی ہیلی کا پٹڑ میں ربوہ لائی گئی۔میت کو اتارتے وقت پنجاب رجمنٹ کے ایک دستہ نے فوجی طریق کے مطابق سلامی دی۔میت کو جو پاکستانی پرچم میں لیٹے ہوئے تابوت میں رکھی تھی پورے اعزاز کے ساتھ اٹھا کر گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا۔شام سوا چار بجے صدر انجمن کے وسیع گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی جو جماعت کے ممتاز عالم دین مولانا ابوالعطا جالندھری نے پڑھائی۔نماز جنازہ میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی جن میں ملک کے ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔نماز جنازہ کے بعد جنرل اختر ملک اور ان کی اہلیہ کی میت کو شہداء کے قبرستان میں لاکر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیا گیا۔اس موقع پر بھی پاکستانی فوج کے ایک دستہ نے فوجی طریق کے مطابق گارڈ آف آنر پیش کیا۔جنرل اختر ملک نے گذشتہ پاک بھارت جنگ میں غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھا جس کے اعتراف کے طور پر آپ کو ہلال جرأت کا اعزاز دیا گیا تھا۔حادثہ کے وقت آپ سینٹو کے ہیڈ کوارٹر انقرہ میں پاکستان کے فوجی نمائندے کے طور پر مامور تھے۔آپ کی وفات پر صدر مملکت کے علاوہ دونوں صوبائی گورنروں اور مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر بیشمار لوگوں کے