تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 101 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 101

تاریخ احمدیت۔جلد 25 نے فرمایا ہے: 101 قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے سال 1969ء ہمیں چاہیے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں۔قرآن کریم نور مجسم ہے۔اس نور سے فائدہ اٹھانا ہر احمدی کا فرض ہے۔آخر میں حضور نے فرمایا کیونکہ میں ربوہ سے باہر جارہا ہوں اور کلاس کے اختتام پر ربوہ میں موجود نہیں ہونگا۔اس لئے میں آج ہی اجتماعی دعا کرا دیتا ہوں۔اس کے بعد حضور نے لمبی اور پُر سوز اجتماعی دعا کرائی۔مولانا ابوالعطاء صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد اس کلاس کی رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ قریبی نہر یکو والہ بنگلہ تک لا راگست کو سب طلباء پیر و جواں پیدل گئے۔حضور بھی از راہ شفقت نصرت آباد (ڈیرہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نزدکوٹ قاضی۔ربوہ ) جاتے ہوئے اور وہاں سے واپسی پر طلباء سے ملنے کے لئے اس جگہ تشریف فرما ہوئے اور موجود اساتذہ وطلباء سے محبت بھری باتیں کرتے رہے۔فوٹو بھی ہوا۔وہاں پر طلباء نے اپنے اجلاس میں آئندہ کے لئے مفید تجاویز بھی پیش کیں۔طلباء کو ناشتہ وہاں پر ہی پیش کیا گیا۔حضور نے ایک دن مسجد مبارک میں دریافت فرمایا کہ کون کون سے طلباء ایسے ہیں جن کے پاس تفسیر صغیر موجود نہیں؟ حضور نے دس طلباء اور دس طالبات کو تفسیر صغیر خریدنے کے لئے نصف قیمت دو صد روپے اپنی جیب سے عطا فرمائی۔طلباء وطالبات کو تفسیر خرید کر دیں گئی۔102 ایک اور دوست مکرم مبارک احمد صاحب نذیر آف سیرالیون (ابن حضرت مولانا نذیر احمد صاحب على رئيس التبلیغ مغربی افریقہ نے بھی اس سلسلہ میں ہیں روپے عطیہ پیش کیا۔۔۔۔حضور انور کی اس محبت و شفقت سے طلباء پر روحانی اثر کے علاوہ یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ قرآن مجید کی تعلیم اور اشاعت کے لئے آپ کی روح میں کس قدر جوش اور ولولہ ہے۔کلاس کی اختتامی تقریب ۲۱ /اگست کو بعد نماز عصر دارالضیافت کے صحن میں مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔صاحب صدر نے طلباء میں انعامات تقسیم فرمائے۔طالبات کی اختتامی تقریب ۲۱ را گست کو پانچ بجے شام لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔آپ نے کامیاب طالبات میں انعامات تقسیم فرمائے اور زریں نصائح سے نوازا۔108