تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 78
تاریخ احمدیت۔جلد 24 78 سال 1967ء لوگ خود بھی زندہ ہیں اور روحانی روشنی سے حصہ پا کر زندہ خدا کو دیکھ چکے ہیں۔“ نیز فرمایا کہ اب آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس موجودہ نسل کے نوجوان طبقہ کو اسلام سے روشناس کرائیں یعنی اس نوجوان طبقہ کو جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں انہیں کچھ علم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور وہ خود کس طرف لیجائے جارہے ہیں اور کہ یہ تباہی و بربادی کا راستہ ہے کیونکہ خدائی پیشگوئیوں میں تو یہ پہلے سے بتایا جا چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ نسل ہی سب سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھے گی۔اگر یہ تباہی ۱۰۔۱۵ یا ۲۰ سال کے بعد آئے تو بڑی عمر کے لوگ تو اُس وقت تک اپنی طبعی موت مرچکے ہوں گے اور وہ اس تباہی کا سامنا نہیں کریں گے۔مگر اس نوجوان طبقہ کا اکثر حصہ ضرور اس کا سامنا کرے گا۔اگر چہ ان میں سے بعض چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جائیں گے تاہم سب سے زیادہ متاثر آجکل کا نوجوان طبقہ ہی ہوگا۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو بچائیں۔ہمیں اپنی طرف سے سب کو اس مصیبت سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔“ جرمن قوم کیلئے قدر کے جذبات اس موقعہ پر نو جوان مذکور نے حضور سے کہا کہ حضور دعا فرماویں۔حضور نے جواب میں فرمایا کہ میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں۔جرمن قوم کے متعلق میرے دل میں بڑی قدر کے جذبات ہیں جو اُس وقت پیدا ہوئے جب میں طالب علمی کے زمانے میں یہاں آیا تھا۔میں آپ لوگوں کو بالکل اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں ہمیں اس قوم کو بچانے کی ضرور کوشش کرنی چاہئیے۔انہوں نے پہلے ہی بہت مصیبت کا سامنا کیا ہے۔پہلی جنگِ عظیم میں ان کو تکلیف اٹھانی پڑی۔پھر انہیں Inflation کے ایام میں مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہے کہ ۱۹۲۷ء میں کیا گزری۔اس وقت جرمن قوم نے Inflation اور اقتصادی زبوں