تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 869
تاریخ احمدیت۔جلد 24 847 سال 1968ء بھی اپنے خطاب سے نوازا۔اسی روز شام کو احباب جماعت نے حضرت چوہدری صاحب کو ائیر پورٹ پر الواداع کیا۔آپ کی آمد پر سب احباب جماعت شاداں و فرحاں نظر آتے تھے۔اس سال یوگنڈا مشن کے پہلے سیکنڈری سکول کو ملک بھر میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی گذشتہ سال سکول کے طلباء کی تعداد ۲۲۵ کے قریب تھی جو اس سال ۳۵۰ تک پہنچ گئی اور وزارت تعلیم نے خود بعض طلباء کو بھجوانا شروع کر دیا۔اس سال سکول کا نیا بجٹ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ شلنگ تجویز ہوا۔سکول کو چلانے کے لئے مشن پر بھی کوئی بوجھ نہیں ہوا کیونکہ سکول کے سبھی اخراجات سکول کی فیسوں سے فراہم کئے جانے لگے۔زائد طلباء کے باعث سکول کے لئے نئے فرنیچر کی ضرورت تھی جس پر کم و بیش ساڑھے تین ہزار شلنگ کا اندازہ تھا۔جناب صوفی محمد اسحاق صاحب اور بھائی محمد حسین صاحب کھوکھر پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ جنجہ ایک مخیر سکھ دوست سر دار اندرسنگھ گل کے پاس گئے۔سردار صاحب عرصہ سے احمد یہ مشن کی خدمت کرتے آرہے تھے۔جماعت احمد یہ جنجہ کے مشن اور مسجد کے لئے سب لکڑی انہوں نے مفت سپلائی کی تھی۔چنانچہ اس دفعہ بھی سکول کے فرنیچر کے لئے لکڑی مفت دیدی اور بنوائی کی اجرت بھی بالکل معمولی وصول کی۔10