تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 867
تاریخ احمدیت۔جلد 24 845 سال 1968ء اس کا بہت اچھے رنگ میں ردعمل ظاہر ہوا۔اس مضمون کو پڑھ کر ایک ڈچ انجنیئر Mr۔P۔A۔Van Diease نے مکرم عبدالحکیم المل صاحب کو یہ خط لکھا کہ " آپ کا مضمون پڑھ کر اور یہ معلوم کر کے بڑا تعجب ہوا ہے کہ قرآن کریم نے مسیح ابن مریم کے صلیبی موت سے بچ جانے کی خبر دی ہے۔میں نے بھی اس موضوع پر مطالعہ کیا ہے جس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔میں نے اپنے مطالعہ کے نچوڑ کو جمع کر کے ایک پمفلٹ کی صورت میں تیار کر لیا ہے جس کی ایک کاپی آپ کو بھجوا رہا ہوں۔“ ہفتہ وار مجالس کا انعقاد بھی ہوتا رہا جس کیلئے ہفتہ کا دن مقرر کیا گیا۔ایک مجلس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بھی شمولیت اختیار کی۔احباب جماعت کے علاوہ بہت سے غیر از جماعت احباب بھی آپ کے ایمان افروز کلمات سے مستفید ہوئے۔آپ نے ایک گھنٹہ تک ممبران سے خطاب فرمایا اور سوالات کے جوابات دیئے۔یوگنڈا صوفی محمد اسحاق صاحب انچارج احمد یہ مشن یوگنڈا نے اس سال مسا کہ، کسمبیا اور مبالی کے علاقوں کا دورہ کیا۔اس دوران آپ مجیر ابھی گئے جہاں یوگنڈا کی سب سے پرانی افریقن جماعت ہے اور جہاں مولوی جلال الدین صاحب قمر نہایت محنت سے پیغام حق پہنچارہے تھے۔آپ نے پنجہ ڈے کے مقام پر مسلمان بچوں کو دینیات پڑھانے کے لئے ایک تربیتی کلاس بھی کھول رکھی تھی۔ان دنوں اس میں تقریباً پچیس احمدی اور غیر احمدی بچے پڑھ رہے تھے۔صوفی محمد اسحاق صاحب مشن کے ہیڈ کوارٹر جنجہ میں مقیم تھے جہاں سے آپ تقریباً ہر ہفتہ جماعت احمدیہ کمپالہ کے سیکنڈری سکول (بشیر ہائی سکول) کی نگرانی اور مشن کے دیگر کاموں کے لئے کمپالہ تشریف لے جاتے تھے۔اس اثناء میں یوگنڈا میں کامن ویلتھ پارلیمینٹری ایسوسی ایشن کی ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا۔آپ نے اس زریں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور ملائیشیا کے نمائندوں کے اعزاز میں ایک ٹی پارٹی دی جس میں جزیرہ ٹونگا (TONGA) واقع بحر الکاہل جنوبی کے ایک عیسائی نمائندہ نے بھی شرکت کی۔صوفی صاحب نے ان اصحاب کو جماعت احمد یہ اور اس کی دینی مساعی سے متعارف کرایا۔مشرقی پاکستان اور ملائیشیا کے نمائندوں نے مشن کا شکریہ ادا کیا اور جزیرہ ٹونگا کے نمائندہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے