تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 815 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 815

تاریخ احمدیت۔جلد 24 793 سال 1968ء کروایا گیا اور اس کی وسیع پیمانہ پر اشاعت کی گئی۔اسی طرح رسالہ البشرا ی کو بھی دوبارہ شائع کیا گیا۔دوران سال رمضان المبارک کے دوران مسجد میں افطاری کا با جماعت انتظام رہا۔اسی طرح برمی مسلم تعلیم یافتہ طبقہ کے کچھ افراد نے رمضان کے بعد یہاں نزول قرآن پر چودہ سو سال پورے ہونے پر تقاریر اور قرآن کریم کے نسخوں کی نمائش کا اہتمام کیا۔اس نمائش میں برمامشن اور مولوی محمد علی صاحب مرحوم کا نسخہ قرآن کریم بھی رکھا گیا۔۱۴ جنوری کو جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ منعقد کیا گیا جس میں چنیدہ حضرات کو دعوتی کارڈ بھی دیئے گئے۔امسال رنگون یو نیورسٹی کے اکثر مسلمان اور چند غیر مسلم طلباء کی ایک خاصی تعداد شامل ہوئی۔۱۴ جنوری ۱۹۶۸ ء کو برما کی احمد یہ جماعت نے جلسہ سالانہ منعقد کیا۔رنگون یونیورسٹی کے مسلمان اور غیر مسلم طلباء کی کافی تعداد جو نہ صرف رنگوں بلکہ باہر کے باشندوں پر مشتمل تھی جلسہ کی کارروائی میں شریک ہوئی۔ڈاکٹر ایم جمیل صاحب نے جلسہ کی صدارت کی۔اس جلسہ میں مختلف موضوعات پر تقاریر ہوئیں۔تنزانیہ 66- 65 عیسائیوں کا ایک فرقہ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹس ہے اس فرقہ کا تعلق عیسائیوں کے قدامت پرسر بازو سے ہے جس کے بانی امریکہ کے ولیم مگر تھے۔اپنے عقیدہ کے مطابق یہ کوئی نیا چرچ نہیں اور اس کی حیثیت محض ایک تحریک کی ہے جس کا بنیادی مقصد بائبل کی پیشگوئیوں کے مطابق بنی نوع انسان کو یسوع مسیح کی آمد ثانی کے لئے تیار کرنا ہے۔اس مکتبہ فکر کی طرف سے انیسویں صدی کے اوائل میں یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ یسوع مسیح کی آمد ثانی ۱۸۴۳ء میں ہوگی۔بعد ازاں اس میں ترمیم کر کے آمد ثانی کا وقت ۲۲ را کتوبر ۱۸۴۴ء قرار دیا گیا۔دسمبر ۱۹۴۶ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ، کینیڈا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ان کے بالغ ممبران کی تعداد ۹۸۶۸۳ ۵ تھی جبکہ ۹۳۲۱ چرچ ، ۱۶۷ طبی ادارے اور ا ۵ دارالاشاعت کام کر رہے تھے۔اس فرقہ کے ایک عیسائی آسٹریلین پادری اے۔ای۔تک (A۔E۔COOK) نے کئی روز تک تبلیغی لیکچر دئیے۔۲۴ جولائی ۱۹۶۸ء کو اپنی تقریر میں یسوع مسیح کی تعریف میں بہت غلو کیا نیز کہا کہ مسلمانوں کے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اقرار کیا ہے کہ مسیح تمام انبیاء ورسل سے افضل ہیں۔67