تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 814
تاریخ احمدیت۔جلد 24 792 سال 1968ء ملتی ہے جو اس سال کے آخری حصہ سے متعلق ہے اور جس سے جماعت احمد یہ برما کی دینی خدمات کی ایک جھلک سامنے آتی ہے۔یہ رپورٹ خواجہ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ رنگوں کی تھی جس میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میسرنا القرآن اور پارہ اول کی ڈیمانڈ مائنڈ لے، کلو اور ٹونجی سے آئی ہے۔ٹونجی میں ایک پرانے احمدی بزرگ امیر علی خان صاحب مرحوم کی صاحبزادی نے ۵۰ کاپی کا آرڈر دیا اور بعض دوسرا انگریزی لٹریچر اپنے عزیزوں کے لئے منگوایا۔پاکستان میں پہلے برمی سفیر او پے کھن امیر علی صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ان کے چھوٹے بھائی اوموں ملون صاحب بھی مشن میں تشریف لاتے ہیں اور اپنے ہمراہ دوسرے احباب کو بھی لاتے ہیں۔مؤلمین کالج کے ایک سینئر طالب علم عبد الحمید صاحب تشریف لائے اور مشن کے متعلق معلومات حاصل کیں نیز ضروری لٹریچر لے کر گئے ہیں تا کہ مولمین کالج کے مسلم طلباء کو روشناس کیا جا سکے اور ان کی تنظیم کی جاسکے۔مانڈے کے جلال الدین صاحب ایک ہفتہ سے با قاعدہ مشن میں تشریف لا کر جماعتی معلومات حاصل کرتے رہے۔وہ برما کی ایک سیاسی پارٹی کے اعلیٰ ورکر بھی ہیں اور مختلف طبقوں میں ان کے لئے تبلیغ کا موقع ہے۔موہیئے میں ایک مخلص دوست محمد شفیع صاحب اور پھارن میں عبدالحکیم صاحب نہایت جوشیلے احمدی ہیں۔حال ہی میں جماعت برما نے دوبارہ کسوف و خسوف والی پیشگوئی کو برمی میں شائع کیا ہے اور ان احباب کے ذریعہ سینکڑوں لوگوں تک یہ پیغام ملک کے طول و عرض میں پہنچایا۔مکرم ڈاکٹر محمد جمیل صاحب نے اپنے گھر سفیر پاکستان اور بعض دوسرے احباب کو مدعو کیا۔محترم حسن امام صاحب سفیر پاکستان نے جماعت کی برما میں تنظیم پر مسرت کا اظہار فرمایا اور کہا کہ کلکتہ میں آپ کے مبلغ صاحب کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔پھر کمبوڈیا میں مسلمانوں کی پوزیشن اور تنظیم کے متعلق معلومات سے نوازا۔ایک جاپانی ڈاکٹر مسٹر ابارا بھی جماعت کے متعلق دلچسپی لیتے رہے۔ہستی باری تعالیٰ ، روزے 64۔کی فلاسفی ، نمازوں میں تنظیم کا پہلو وغیرہ موضوعات پر نہایت دلچسپ تبادلۂ خیالات رہا۔امسال بر مامشن کو لٹریچر کی وسیع اشاعت کی توفیق ملی جس میں ۴۸ صفحات پر مشتمل ایک کتاب مسیح کشمیر میں مولفہ خواجہ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ رنگون کو دو ہزار کی تعداد میں شائع