تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 812
تاریخ احمدیت۔جلد 24 790 سال 1968ء آرچرڈ اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے خطاب فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب کی تقریر کا عنوان تھا ”اسلام اور انسانی حقوق۔آپ کے بعد صاحب صدر نے تقریر کی۔جلسہ کے دوسرے روز جن فاضل مقررین نے لیکچر دئیے ان میں خان بشیر احمد خان صاحب رفیق اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت چوہدری صاحب نے سورہ فتح کے آخری رکوع کی تفسیر فرماتے ہوئے احباب جماعت کو تلقین فرمائی کہ وہ اسوہ رسول ﷺ اختیار کریں۔صحابہ کرام کی مثالوں کو مد نظر رکھیں۔اس راستے پر مت چلیں جس پر چل کر آج مغربی اقوام تباہ ہو رہی ہیں۔کانفرنس کے آخر میں جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق نے اختصار کے ساتھ انگلستان مشن کی سالانہ رپورٹ پیش فرمائی۔اور تحریک کی کہ احباب جماعت مشن کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے مال اور وقت کی قربانی پیش کریں۔کانفرنس میں انگلستان کے دور ونزدیک سے جماعتوں کے تقریباً ایک ہزار افراد نے شرکت کی۔لنڈن کے علاوہ کرائڈن ، ساؤتھ آل جل گھم، برمنگھم ، آکسفورڈ، لیڈز، لیمنگٹن سپا، مانچسٹر، بریڈ فورڈ ، گلاسگو، برسٹل، پریسٹن ، ہڈرزفیلڈ وغیرہ سے بھی احباب تشریف لائے۔مہمانوں کی رہائش کا انتظام مختلف گھروں میں کیا گیا۔اور کھانے کا انتظام بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ سالوں سے بہتر رہا۔لجنہ اماءاللہ لنڈن نے خالد احمد صاحب اختر ناظم خوراک کی ہدایت کے مطابق ایک ہزار افراد کے لئے کھانا پکایا۔خواجہ رشید الدین صاحب قمر قائد مجلس لنڈن نے جلسہ کے دیگر امور نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔ان کی مجلس عاملہ نے پورا پورا تعاون کیا۔جلسہ کے انتظامات کے لئے ایک کمیٹی مقرر کر دی گئی تھی۔جس نے نہایت خوش اسلوبی سے سارے کام سرانجام دیئے۔رجماعتہائے احمد یہ انگلستان کے لئے جوا مرسب سے زیادہ خوشی کا موجب ہوا۔وہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا پیغام تھا جو حضور نے اس خاص موقع کے لئے ارسال فرمایا۔حضور نے احباب جماعت کو سلام کا تحفہ بھیجا، جلسہ کے کامیاب ہونے اور حاضرین جلسہ کے لئے برکت کی دعا کی۔اس دفعہ مشن کی طرف سے جلسہ کے موقع پر انفرادی طور پر انگریزوں کو اسلام سے متعلق تفصیل سے معلومات بھی بہم پہنچائی گئیں۔ہال میں ایک نمائش کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔جس میں انگریزوں نے بہت دلچسپی لی۔ایک حصہ میں قرآن مجید کے اردو، انگریزی ، ڈینیش، جرمن، سواحیلی ، ڈچ اور چند دیگر افریقی زبانوں کے تراجم رکھے گئے۔اسی طرح تمام مشن ہاؤسز، ان کی مساجد اور مبلغین کی