تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 63
تاریخ احمدیت۔جلد 24 63 سال 1967ء اسلام کی بنیادی غرض یہ ہے کہ ایک مسلمان کہلانے والا اپنے رب کی معرفت حاصل کرے یعنی پورے وثوق کے ساتھ یہ احساس رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہے، رحیم ہے، ہر خوبی اس میں پائی جاتی ہے۔جب وہ یہ معرفت حاصل کر لیتا ہے۔تو وہ اپنے رب کی قدر کرنے لگ جاتا ہے اور بے انتہا محبت اپنے رب کی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ساتھ ہی ہر وقت اسے یہ دھڑکا لگارہتا ہے کہ اگر میں نے اسے ناراض کر دیا تو اُس کے غضب میں ایسی گرمی ہے کہ کوئی آگ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت کے نتیجہ میں انسان اس کی راہ میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اس کا محبوب بن جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا نجات کا ذریعہ اور تمام نیکیوں کا سر چشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے لئے ہی اس قسم کی کلاسیں جاری کی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ احباب اس نکتہ کو سمجھنے لگیں کہ سب اللہ ہی کا ہے۔جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ کریں اور وہ نتیجے نہ نکلیں جو صحیح معرفت کے نکلتے ہیں۔اس وقت تک ہم اللہ کا پیار حاصل نہیں کر سکتے اور اپنے آپ کو شیطانی حملوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔آپ لوگ جو تکلیف اٹھا کر دور دور سے یہاں آئے ہیں۔اس سے غرض یہی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں۔پس یہاں اپنے وقتوں کو ضائع نہ کریں۔حصول معرفت کے اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔آپ صبغتہ اللہ کو سمجھنے اور اس کی معرفت سے بہرہ مند ہونے کی کوشش کریں اور پھر اس رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کریں اور یا درکھیں کہ ہر بد عملی ، ہر بدعت ، ہر بدرسم اس رنگ کے راستہ میں روک ہے۔اس قسم کی مشرکانہ رسوم و بدعات اور خیالات سے آپ اسی صورت میں بیچ سکتے ہیں کہ آپ اپنے رب کو پہچاننے لگیں۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت بنیادی چیز ہے۔اس کے بغیر ہم روحانی طور پر زندہ نہیں رہ سکتے۔62 فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کے نام مکتوب امام مولانا ابوالعطاء صاحب نے ۲۰ جولائی ۱۹۶۷ء کو فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کے طلباء کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے حضور سفر یورپ کی کامیابی پر مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا۔جس کے جواب میں حضور نے لنڈن سے جوابی خط میں تحریر فرمایا: