تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 751
تاریخ احمدیت۔جلد 24 729 سال 1968ء بڑے عالموں سے زیادہ کام کر گئے۔خاکسار کی ان سے پہلی ملاقات ۱۹۶۵ء میں ہوئی جبکہ خاکسار جمعیت مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ان کی جماعت کے دورہ پر گیا۔مرحوم نے اپنی جماعت کی کارگذاری پیش کی۔اس کا اثر جو مکرم و محترم چوہدری صاحب پر ہوا اس کا ذکر انہوں نے اخبار احمدیہ مورخہ ۳۰ مارچ ۱۹۶۵ء میں بایں الفاظ فرمایا' ہڈرزفیلڈ کی یہ خصوصیت بھی قابل ذکر ہے کہ جناب مولوی کمال الدین امینی کے اخلاص ، تقویٰ اور خشیت اللہ اور توجہ کواللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے خاص طور پر شرف قبولیت سے نوازا ہے اور وہاں کی تمام جماعت ان کے رنگ میں رنگین ہے۔خاکسار کو جو مختصر سا عرصہ ان صاحبان کی صحبت میسر آئی تمام وقت خاکسار کا دل ایک وجد کی کیفیت میں رہا اور بہت دعا ئیں ان سب کیلئے دل سے نکلتی رہیں۔آئندہ پود کی دینی تربیت اس ماحول میں جس طور پر وہ سرانجام دے رہے ہیں وہ ایک اعجازی رنگ رکھتی ہے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ فِي الدَّارَيْنِ خَيْرًا - کمال الدین صاحب امینی مرحوم کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ اس دنیا کے باسی ہی نہیں ہیں۔اُن کی روحانیت، نمازوں میں التزام، دعاؤں میں شغف، سلسلہ سے محبت، خلافت سے وابستگی ،مغربی دجالی ماحول سے بیزاری اور تعلق باللہ غیر معمولی رنگ کے تھے۔پچھلے سال جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی انگلستان تشریف آوری کا سنا تو بار بار خطوط اور فون وغیرہ کے ذریعہ مجھے لکھا کہ حضور کی خدمت میں ان کی جماعت کی طرف سے درخواست کریں کہ حضور ہڈرزفیلڈ کو بھی دورہ میں شامل کر لیں۔حضور پُر نور کی ربوہ سے روانگی سے قبل ایک ٹیپ اپنی جماعت کی طرف سے ریکارڈ کر کے حضور کی خدمت میں بھجوائی جس میں یہ درخواست دہرائی گئی تھی۔پھر حضور اقدس کی تشریف آوری سے قبل ایک خواب کا مجھ سے ذکر کیا جس میں ان کو بتایا گیا تھا کہ حضور انشاء اللہ ہڈرز فیلڈ تشریف لے آویں گے۔حضور اقدس نے لندن میں ان کی درخواست کو جب شرف قبولیت بخشا توان کا خوشی کے مارے عجیب حال تھا۔حضور اقدس جب ہڈرز فیلڈ پہنچے تو امینی صاحب مرحوم نے سارا علاقہ خوش نما رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا ہوا تھا اور بڑے قطعات پر اهلا و سهلا و مرحبا اور خوش آمدید و غیرہ لکھ کر سڑک پر لگائے ہوئے تھے۔حضور پر نور جب کار سے باہر تشریف لائے تو مرحوم امینی صاحب کی وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ حضور کے پُر نور چہرہ کو دیکھا گئے ،مصافحہ بھی نہ کیا۔اور یوں محسوس ہوتا تھا گویا مدہوش ہو گئے ہیں۔حضور نے بھی ان کے اس عشق کو محسوس فرمایا اور خاکسار سے ان کی وارفتگی کی طرف اشارہ فرمایا۔مرحوم امینی صاحب شاید ابھی مزید کچھ عرصہ اسی حالت میں رہتے اگر