تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 738
تاریخ احمدیت۔جلد 24 716 سال 1968ء لئے قادیان بطور درویش بھجوا دیا۔۱۹۳۵ء میں گوجرہ میں تین احمدیوں پر جن میں خواجہ عبدالواحد صاحب پہلوان بھی تھے احراریوں نے مقدمہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سب کو بری کر دیا۔مکرم خواجہ عبدالواحد صاحب پہلوان کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے از راہ شفقت قطعہ صحابہ میں تدفین کی اجازت مرحمت فرمائی۔پروفیسر محمد ابراہیم صاحب نا صر سابق مجاہد جهنگری وفات: ۶ جولائی ۱۹۶۸ء آپ حضرت مولوی فخر الدین صاحب آف گھوگھیاٹ متصل میانی ضلع شاہ پور ( حال سرگودھا) کے صاحبزادے، مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر کے بھائی تھے۔تحریک جدید کے مجاہدین دور اول ۱۹۳۵ء میں سے تھے۔ہنگری میں پونے دو سال خدمت سرانجام دی ، کئی سعید روحوں کو قبول حق کی توفیق ملی۔محترم محمد ابراہیم صاحب جمونی سابق ہیڈ ماسٹر کا بیان ہے کہ آپ نے بارہ سال تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں بطور استاد کام کیا۔اور دیگر جماعتی اداروں میں بھی خدمت کی۔ریاضی کے ماہر تھے اس طرح پڑھاتے کہ ایک ایک لفظ طلباء کے ذہن میں اترتا چلا جاتا کہ پھر دماغ سے محو نہ ہوتا تھا۔ریاضی کا شوق ان میں پیدا کر دیا۔سکول ٹائم کے علاوہ بھی طلباء کو سکول کے مفاد کی خاطر پڑھایا کرتے تھے۔کمزور بچوں کو گھر بلا کر ریاضی کی تعلیم دیتے تھے۔اسی طرح مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب نے تحریر کیا کہ ۱۹۵۴ء میں جب تعلیم الاسلام کا لج لاہور سے ربوہ منتقل ہوا تو آپ کا لج سٹاف میں شامل کئے گئے اور پھر مختلف حیثیتوں سے کام کے علاوہ کالج میں ریاضی کی تدریس کرتے رہے۔نہایت خوشخط تھے۔رجسٹر کے ہر قسم کے اندراجات نتائج کارڈز وغیرہ خود اپنے ہاتھ سے خوشخط درج کرتے تھے۔کالج کی تفریحی انفارمل مجلس کے صدر اور سر براہ تھے۔مرنجان مرنج طبیعت کے مالک تھے۔جلسہ سالانہ کے کارکنان کا نقشہ فرائض تیار کرنے کا سالہا سال تک کام کیا۔مکرم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تحریر کیا کہ کامیاب رجسٹرار امتحانات تھے فیسوں کی معافی کے معاملہ میں آپ کی رائے اور سفارش معین ہوتی تھی۔احمد یہ ہوٹل ایمپرس روڈ لاہور کے زمانہ میں تبلیغ کے لئے بہت وقت دیتے تھے اور ملک