تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 708
تاریخ احمدیت۔جلد 24 686 سال 1968ء ایک دفعہ حضور سیر سے واپس آتے ہوئے رستہ میں ٹھہر گئے اور جھاؤ کی کونپلیں سونگھ کر فرمایا یہ بھی بہت مفید چیز ہے۔اگر اطباء اس کا عرق کشید کر کے استعمال کرائیں تو کئی امراض دور ہو سکتی ہیں۔“ ایک اور روایت میں درج ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ برادرم حکیم محمد حیات ، چوہدری الہی بخش صاحب موہل اور میاں حامد صاحب پیش امام قادیان جارہے تھے کہ بٹالہ کے اسٹیشن پر مولوی محمد حسین صاحب سے ملاقات ہو گئی۔دوران گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آپ لوگ قادیان جا کر کیا لینگے؟ مرزا صاحب نے تو دکان کھول رکھی ہے۔یہ سن کر چوہدری الہی بخش صاحب کے دل میں طرح طرح کے وساوس پیدا ہونے لگے۔خیر جب قادیان پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوران تقریر از خود فرمایا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے دکان کھول رکھی ہے۔یہ ٹھیک ہے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لون تیل کی دکان نہیں۔بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی دکان ہے جہاں اس کے وصال کا سودا ہوتا ہے۔یہ سن کر چوہدری الہی بخش صاحب کے تمام وساوس دور ہو گئے۔چنانچہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس کرامت کا لوگوں سے اکثر ذکر کرتے رہتے تھے کہ اعتراض کئے بغیر ہی حضور نے اعتراض کا جواب دیدیا۔ایک روایت میں فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے کہ میرے ساتھ برادرم میاں عبد اللہ خان صاحب برادرم میاں محمد دین صاحب، عزیزم میاں غلام محمد صاحب اور میاں حامد صاحب پیش امام بھی قادیان گئے۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف فرما ہیں۔چنانچہ ہم لوگ سولہ میل کا سفر طے کر کے قادیان سے پا پیادہ گورداسپور پہنچے۔حضرت اقدس ایک بالا خانہ میں فروکش تھے۔اطلاع ملنے پر حضور نے ہمیں وہیں بلا لیا۔میں نے دست بوسی کے بعد اپنے ساتھیوں کا تعارف کروایا۔حضور نے مولوی یار محمد صاحب کو ارشاد فرمایا کہ یہ پیدل سفر کر کے آئے ہیں انہیں کھانا کھلا کر چار پائیاں دید و تا کہ یہ آرام کرلیں۔دوسرے دن بعد نماز فجر حضور دیر تک دعا میں مشغول رہے۔ازاں بعد ہمیں یاد فرمایا۔چنانچہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔میرے پاس جو چندہ جات کا روپیہ تھا حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔اور چونکہ والد ماجد کو فوت ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا اور ابھی ان کی وفات کا صدمہ تازہ تھا حضور کی غیر معمولی شفقت دیکھی تو دل بھر آیا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔میری دردمندانہ حالت دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی محبت سے فرمایا:۔